News Views Events
Apna Watan

چین کی افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف پالیسی باہمی تعاون میں نئی توانائی پیدا کرے گی، چینی میڈیا

0

بیجنگ :یکم مئی کو ، چین اپنے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک کی مصنوعات پر زیرو ٹیرف نافذ کرے گا، جس میں کسی قسم کی حد بندی یا سیاسی شرط شامل نہیں ہے۔ یہ چین کی اعلیٰ سطح کی کھلی پالیسی کو بڑھانے کا ایک سنگ میل اقدام ہے، اور افریقہ کے ساتھ "سچائی، قربت، دیانتداری” کے تصور کو عملی جامہ پہنانے، اور چین-افریقہ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو گہرا کرنے کا ایک زندہ ثبوت بھی ہے۔ یہ قدم چین-افریقہ تعاون میں نئی اور مضبوط توانائی پیدا کرے گا اور باہمی فائدے کے نئے مواقع کو جنم دے گا۔زیرو ٹیرف پالیسی کا سب سے براہِ راست فائدہ یہ ہے کہ زیادہ افریقی مصنوعات کم لاگت کے ساتھ چین کی منڈی میں داخل ہو سکیں گی۔ دسمبر 2004 میں، چین نے 33 سب سے کم ترقی یافتہ افریقی ممالک پر زیرو ٹیرف پالیسی نافذ کی تھی، جس کے نتیجے میں چین-افریقہ تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ ہوا۔ جنوری تا جولائی 2025 کے دوران ، چین نے ان 33 افریقی ممالک سے 39.66 ارب ڈالر کی درآمدات کیں، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10.2 فیصد زیادہ ہیں۔ اب، زیرو ٹیرف افریقہ میں تمام 53 سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک تک وسیع ہو گا ۔ ایتھوپیا کی کافی، کینیا کا ایووکاڈو، روانڈا کی مرچ، جنوبی افریقہ کے میوے اور ان جیسی دیگرمصنوعات زیرو ٹیرف پالیسی کے تحت تیزی سے چین کے بے شمار گھروں تک پہنچیں گی۔ زیرو ٹیرف نہ صرف چین کی 1.4 بلین آبادی پر مشتمل وسیع مارکیٹ کی صلاحیت کو مزید آزاد کرتا ہے بلکہ افریقی ممالک کو برآمدات بڑھانے، زرمبادلہ میں اضافہ کرنے، طویل عرصے سے ابتدائی مصنوعات کی برآمدات کے مسئلے کو حل کرنے اور افریقہ کی اقتصادی ترقی میں براہِ راست توانائی فراہم کرنے میں بھی معاون ہے۔زیرو ٹیرف پالیسی مساوات اور باہمی فوائد کی بنیاد پر دوطرفہ جیت کو فروغ دیتی ہے، اور چین اور افریقہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے وسیع تر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ آئیوری کوسٹ میں، چین کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے تعمیر شدہ ربڑ کی پروسیسنگ فیکٹریوں نے ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں، اور چین کی وسیع منڈی نے آئیوری کوسٹ کی ربڑ کی مصنوعات کے لیے مستحکم برآمدی چینل فراہم کیا ہے۔ چین کے حو نان صوبے میں، کئی مینوفیکچرنگ کمپنیوں نے تیونس، مراکش اور دیگر ممالک سے پرزے درآمد کیے، جب کہ کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد پیداواری لاگت میں بڑی کمی آئے گی، جس سے متعلقہ صنعتوں کی ترقی کو بہتر طور پر فروغ ملے گا۔ کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کر کے تجارت میں اضافے کے ساتھ ساتھ عوام کی فلاح میں بھی اضافہ کیاجا رہا ہے، اور اب چین کی 1.4 ارب آبادی کی بڑی مارکیٹ افریقہ کی ترقی کے لیے وسیع مواقع فراہم کر رہی ہے۔اس وقت جب مخالفت پر مبنی عالمگیریت کی سوچ فروغ پا رہی ہے اور تحفظ پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے، چین نے یکطرفہ کھلے پن کے حقیقی اقدامات کے ذریعے عالمی تجارت میں استحکام اور یقین دہانی پیدا کی ہے، اور گلوبل ساؤتھ ممالک کے تعاون کا معیار قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ، زیرو ٹیرف چین اور افریقہ کے درمیان سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، ثقافت و سیاحت، اور عوامی فلاح کے شعبوں میں بھی ہم آہنگ ترقی کو فروغ دے گا، اور چین-افریقہ تعاون کو محض تجارتی تبادلے سے صنعتوں کے انضمام، عوامی فلاح کے اشتراک، اور مشترکہ تقدیر کے حامل جامع تعاون کی طرف بڑھائے گا، جس سے چین-افریقہ ہم نصیب معاشرے کی بنیاد مزید مضبوط ہو گی۔2003 میں چین-افریقہ تعاون فورم کےدوران زیرو ٹیرف کا تصور پیش کئے جانے سے لے کر 2005 میں 194 اشیاء پر مشتمل پہلی ٹیکس فہرست کے نفاذ تک، اور پھر 2024 میں افریقہ کے 33 انتہائی کم ترقی یافتہ ممالک اور اب تمام 53 سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک تک، چین کا زیرو ٹیرف اقدام ایک منظم اور مرحلہ وار پیش رفت کی مثال ہے۔ چین کا یہ قدم مشترکہ مشاورت، مشترکہ تعمیر اور مشترکہ استفادے کے عالمی وژن کے تحت دنیا کو یہ دکھاتا ہے کہ چین اور افریقہ کس طرح مل کر جدیدیت کی طرف بڑھ رہے ہیں اور نئے دور میں ہمہ موسمی چین-افریقہ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر میں اسٹریٹجک عزم اور تاریخی بصیرت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ پالیسی کسی بھی سیاسی شرط کے بغیر ہے، دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، ہمیشہ مساوات کے احترام اور باہمی فائدے کی بنیاد پر عمل کرتی ہے، اور بالادستی کے نظریات اور مفاد پرستی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ رواں سال چین-افریقہ تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے اہم موقع پر، زیرو ٹیرف پالیسی کا نفاذ نہ صرف چین اور افریقہ کی روایتی دوستی کی وراثت ہے، بلکہ مستقبل کے تعاون کا منصوبہ بھی ہے، جو چین اور افریقہ کو جدیدیت کے سفر میں ساتھ ساتھ آگے بڑھنے، عالمی ترقی کے چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے اور دنیا کے امن و ترقی میں مشترکہ کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔یکم مئی سے چین افریقہ کے 53 ممالک کے لیے مکمل طور پر زیرو ٹیریف نافذ کرے گا ، یہ چین اور افریقہ کے تعاون کا اختتام نہیں بلکہ باہمی فائدے کو گہرا کرنے کا نیا آغاز ہے۔ یہ پالیسی چین اور افریقہ کے اقتصادی و تجارتی روابط کے لیے "پل” قائم کرتی ہے ، افریقہ کی ترقی اور احیاء کے لیے” سیڑھی” بچھاتی ہے، اور چین اور افریقہ کی مشترکہ تقدیر کی "قوت” کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ یقین ہے کہ زیرو ٹیرف کے فوائد کے ساتھ، چین اور افریقہ کا تعاون نئی بلندی تک پہنچے گا اور باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کے ایک نئے دور کی نئی تاریخ رقم کرے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.