بیجنگ :چین کی ریاستی کونسل کے ٹیرف کمیشن نے اعلان کیا کہ چین یکم مئی 2026 سے 30 اپریل 2028 تک ان 20 افریقی ممالک کی درآمدات پر ترجیحی بنیادوں پر صفر کسٹم ڈیوٹی نافذ کرے گا جو چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں مگر کم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔اعلامیے کے مطابق جن اشیا پر ٹیرف کوٹہ لاگو ہے، ان میں صرف کوٹہ کے اندر آنے والی درآمدات پر ٹیرف کی شرح صفر کی جائے گی، جبکہ کوٹہ سے زائد درآمدات پر موجودہ شرح برقرار رہے گی۔ اس دو سالہ مدت کے دوران چین متعلقہ افریقی ممالک کے ساتھ مشترکہ ترقیاتی اقتصادی شراکت داری کے معاہدوں کو بھی آگے بڑھائے گا۔اس سے قبل چین یکم دسمبر 2024 سے ان 33 افریقی کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے تمام ٹیرف اشیا پر سو فیصد زیرو ٹیرف نافذ کر چکا ہے جن کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ اب باقی 20 ممالک کو بھی اس سہولت میں شامل کیے جانے سے تمام افریقی شراکت دار ممالک اس پالیسی کے دائرے میں آ جائیں گے۔یہ اقدام چین کی اعلیٰ سطح کی بیرونی کھلے پن کی پالیسی کا مظہر ہے اور اس سے چین۔افریقہ اقتصادی و تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، اور نئے دور میں ہمہ جہتی چین۔افریقہ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا ہوگا۔
Trending
- انگور اڈہ زلول خیل میں افغان اشتعال انگیزی، پاک فوج کی بروقت کارروائی، پوسٹیں تباہ
- وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ، حملہ آور کا چونکا دینے والا اعتراف سامنے آگیا
- کراچی؛ ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کے کپڑے چوری کرنے میں ملوث ملزم گرفتار
- وفاقی وصوبائی کابینہ میں مسیحی نمائندوں کو شامل کیا جائے، اکرم گل
- چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے تمام افریقی شراکت دار ممالک کے لیے زیرو ٹیرف پالیسی کا اعلان
- چین کی افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف پالیسی باہمی تعاون میں نئی توانائی پیدا کرے گی، چینی میڈیا
- جاپانی سیاست دانوں کا یاسوکونی شرائن کا دورہ تاریخ اور انسانی ضمیر کی سنگین توہین ہے ، چینی وزارت خارجہ
- انڈونیشیا میں "شی جن پھنگ: دی گورننس آف چائنا” کی جلد پنجم کے انگریزی ایڈیشن کی تشہیری تقریب کا انعقاد
- چین، سی پی سی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کا اجلاس
- آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کی اصل وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی فوجی کارروائیاں ہیں، چین
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔