ریکوڈک منصوبے میں یورپی سرمایہ کاری بینک کی دلچسپی
اسلام آباد:
یورپی انویسٹمنٹ بینک نے پاکستان کے اربوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک مائننگ منصوبے میں دلچسپی ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرسکتاہے، تاہم اس کے بدلے یورپ کو اہم معدنی وسائل میں حصہ بھی ملناچاہیے۔
دوسری جانب وزارتِ توانائی کے ڈائریکٹر جنرل معدنیات ڈاکٹر نواز احمد ورک نے 6 کھرب ڈالر کے معدنی ذخائرکے دعوے کو ”انتہائی مبالغہ آمیز “ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ اعداد و شمارمستند تحقیقی بنیادوں پر نہیں، یہ باتیں انہوں نے یورپی یونین اور پاکستان بزنس فورم کے دوسرے روز منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
انہوں نے بتایاکہ ریکوڈک منصوبے کے ترقیاتی مرحلے میں سیلز ٹیکس اورودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ پر ٹھیکیداروں کوتحفظات ہیں،جبکہ حکومت پہلے ہی منصوبے کی آمدنی کوٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے چکی ہے، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کوراغب کیاجا سکے۔
ڈاکٹرورک کے مطابق وزارتِ توانائی معاملے پر وزارتِ خزانہ سے مشاورت کر رہی ہے، امیدہے کہ پیداوار شروع ہونے تک ان ٹیکسزکومؤخرکردیاجائیگا۔
یورپی انویسٹمنٹ بینک کے نمائندے مارکو ایرینا نے کہاکہ یورپ کو اپنی گرین اور ڈیجیٹل معیشت کیلیے اہم معدنیات کی ضرورت ہے، اس لیے ریکوڈک جیسے منصوبوں سے مضبوط تعلق قائم کرناضروری ہے، انجینئرنگ کے مسائل نسبتاً آسان ہوتے ہیں جبکہ اصل چیلنجز پالیسی، ریگولیشن، استحکام اور کرنسی کے خطرات ہوتے ہیں۔
ادھر منصوبے کی مرکزی کمپنی بیریک گولڈ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث ریکوڈک منصوبے کی رفتارسست کرنے کااعلان کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق بڑھتے سیکیورٹی مسائل کے پیش نظر منصوبے کاجائزہ 2027 کے وسط تک جاری رہے گا۔
بیریک گولڈ نے کہا کہ اگرچہ ترقیاتی کام سست ہوگا، تاہم منصوبہ مکمل طور پر بند نہیں کیاجا رہا،بلکہ محدود سرمایہ کاری کے ساتھ جاری رکھاجائیگا۔
پہلے مرحلے کی لاگت 5.6 سے 6 ارب ڈالر جبکہ دوسرے مرحلے کی لاگت 3.3 سے 3.6 ارب ڈالر تک متوقع ہے اور پیداوارکاآغاز 2028 کے آخر تک متوقع تھا۔
واضح رہے کہ ریکوڈک دنیا کے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبہ اورسونے کے منصوبوں میں شمار ہوتاہے، جس میں 50 فیصد حصہ بیریک گولڈ، 25 فیصد وفاقی سرکاری اداروں اور 25 فیصد حکومت بلوچستان کے پاس ہے۔
پی این پی