News Views Events
Apna Watan

چین کی ترقی  کے مضبوط ہاتھ اور ثابت قدم دل

0

 

اعتصام الحق

 

 

دنیا کی ترقی کی کہانی اگر کسی ایک لفظ میں سمائی جا سکتی ہے تو وہ لفظ ہے ” محنت ” ۔ یہی محنت جب انسان کے ہاتھوں میں عزم بن کر اترتی ہے تو قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ یکم مئی، عالمی یومِ مزدور، ہمیں انہی خاموش معماروں کی یاد دلاتا ہے جو اپنی محنت کے پسینے سے دنیا  کے ترقی کو رواں دواں رکھتے ہیں۔ یہ دن صرف ایک رسمی یادگار نہیں بلکہ ان کہانیوں کا آئینہ ہے جن میں قربانی، جدوجہد اور امید کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔

 

چین کی مثال اس حوالے سے نہایت منفرد ہے، جہاں مزدور صرف کام کرنے والا فرد نہیں بلکہ قومی ترقی کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم چین کے ماضی اور حال کو دیکھیں تو ہمیں ایسے بے شمار کردار ملتے ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے تاریخ کا رخ موڑا۔ انہی کرداروں میں ایک نمایاں نام وانگ جنشی کا ہے، جنہیں “آئرن مین” بھی کہا جاتا ہے۔ وہ ایک عام مزدور تھے، مگر ان کی غیر معمولی محنت اور عزم نے انہیں ایک علامت بنا دیا۔ تیل کی صنعت میں کام کرتے ہوئے انہوں نے ایسے حالات میں کام کیا جہاں وسائل کم اور مشکلات بے شمار تھیں، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ان کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایک فرد کی لگن پوری قوم کی طاقت بن سکتی ہے۔

 

یہ صرف ماضی کی بات نہیں، آج کا چین بھی اسی جذبے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف وانگ جنشی جیسے کردار ہیں، تو دوسری طرف آج کے جدید دور کے مزدور ہیں جو ٹیکنالوجی، صنعت اور ہنر کے ذریعے ملک کو نئی بلندیوں تک لے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر یوننان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ، جو کبھی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، آج اپنی روایتی دستکاری کو جدید فیشن کے ساتھ جوڑ کر نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا رہے ہیں بلکہ عالمی منڈی میں بھی اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔  ان ہنر مندوں میں ایک نام جن چنہوا کا ہے جو ڈولونگ جیانگ قمیت سے تعلق رکھتی ہیں ۔انہوں نے ڈولونگ جیانگ کے روایتی بنائی کے فن کو فیشن انڈسٹری سے جوڑا اور گھر گھر جا کر  خواتین کو قائل کیا کہ وہ اس ہنر کو اپنا روزگار بھی بنائیں اور یوں یہ علاقہ آج دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور یہاں کہ لوگ ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب محنت کے ساتھ جدت شامل ہو جائے تو ترقی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

 

اسی طرح ایک اور کہانی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ مزدور صرف معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کی علامت بھی ہیں۔  یہ  چین کے  صوبہ سیچوان کی  ایک نوجوان لڑکی کی داستان  ہے جس نے کم عمری میں  لینڈ سلائڈنگ کے ایک واقعے میں اپنے  والدین  اور اپنے گھر کو کھو دیا لیکن اپنی زندگی کے اسی خلاء کو اس نے اپنی پہچان میں اس وقت بدلا جب کم عمری میں ہی ایک اولڈ ایج ہوم کا آغاز کیا اور آج سترہ سال بعد یہ اولڈ ایج ہوم ایک گھر کی مانند ہے  جہاں سارے بزرگ ہنسی خوشی رہ رہے ہیں ۔ہمیں یہ دکھاتی ہے کہ محنت صرف جسمانی مشقت کا نام نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے جو انسان کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔  ایسے کردار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ترقی کی اصل بنیاد انسان کی نیت اور اس کی لگن میں ہوتی ہے۔

 

چین کی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ اس نے اپنے مزدور کو عزت دی، اسے مواقع فراہم کیے اور اس کی محنت کو قومی بیانیے کا حصہ بنایا۔ چاہے وہ کھیتوں میں کام کرنے والا کسان ہو، فیکٹری میں مشین چلانے والا کارکن ہو یا جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے والا انجینئر ،ہر ایک کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج چین دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ترقی کے پیچھے صرف بڑے منصوبے یا حکومتی پالیسیاں نہیں بلکہ کروڑوں مزدوروں کی مسلسل محنت شامل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شاید خبروں میں نظر نہیں آتے، مگر ان کے بغیر کوئی خبر بنتی ہی نہیں۔

 

عالمی یومِ مزدور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے معاشروں میں مزدور کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا ہم اسے صرف ایک کارکن سمجھتے ہیں یا ایک ایسے انسان کے طور پر پہچانتے ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی کو ممکن بناتا ہے؟ چین کی مثال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب مزدور کو عزت، مواقع اور شناخت دی جائے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔

قومیں محلات، سڑکوں یا کارخانوں سے نہیں بنتیں بلکہ ان ہاتھوں سے بنتی ہیں جو یہ سب کچھ تخلیق کرتے ہیں اور شاید یہی عالمی یومِ مزدور کا اصل پیغام ہے  کہ دنیا کو بدلنے کے لیے بڑے خوابوں سے زیادہ ضروری مضبوط ہاتھ اور ثابت قدم دل ہوتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.