ایسل الہام
وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی
اسٹیٹ یوتھ اسمبلی
کلائمٹ گورننس اینالسٹ
impactchroniclesmedia@outlook.com
پیارے اور ذمہ دار ہم وطنو !عیدالاضحیٰ ہمیں قربانی، ایثار اور انسانیت کا درس دیتی ہے
اسلام ہمیں نہ صرف عبادات بلکہ صفائی، اعتدال اور ماحول کے تحفظ کا بھی درس دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ بعض اوقات ہم اپنی لاپرواہی سے دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب بن جاتے ہیں۔
آج جب دنیا موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور ماحولیاتی مسائل کا سامنا کر رہی ہے، تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی مذہبی و سماجی ذمہ داریوں کو ماحول دوست انداز میں ادا کریں۔
ہر سال عید کے دنوں میں آلائشیں، اوجڑی اور گندگی گلیوں، سڑکوں اور نالوں میں پھینک دی جاتی ہے۔ یہی گندگی چند گھنٹوں بعد شدید بدبو، آلودگی اور بیماریوں کی وجہ بنتی ہے۔بدبو اس لیے پھیلتی ہے کیونکہ جانوروں کی آلائشیں اور اوجڑی گرمی میں جلد سڑنا شروع ہو جاتی ہیں، جس سے جراثیم، harmful gases اور آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ بعض اوقات راستوں سے گزرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
یہی آلائشیں اور گندگی صرف عام شہریوں کے لیے ہی مسئلہ نہیں بنتیں بلکہ پرندوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے دنوں میں ائیرپورٹس اور خاص طور پر PAF اور دیگر ائیرلائنز کے اطراف bird activity بڑھ جاتی ہے۔ جب پرندے فضلے اور آلائشوں کی طرف آتے ہیں تو bird strike کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو جہازوں اور فضائی سفر کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے صفائی اور آلائشوں کی بروقت تلفی صرف شہری ذمہ داری نہیں بلکہ قومی اور حفاظتی ذمہ داری بھی ہے۔
یاد رکھیں کہ خوراک، پانی اور قدرتی وسائل اللہ کی نعمت ہیں، اور ان کا ضیاع نہ صرف اخلاقی بلکہ ماحولیاتی نقصان بھی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ:جتنا وقت اور محنت ہم جانور ذبح کرنے، گوشت صاف کرنے اور تقسیم کرنے میں لگاتے ہیں، اگر صرف 10 سے 15 منٹ مزید نکال کر آلائشوں کو درست طریقے سے تلف کر دیں اور قربانی کی جگہ کو پانی سے اچھی طرح صاف کر دیں، تو ہمارا ماحول بھی صاف رہ سکتا ہے اور دوسروں کو تکلیف بھی نہیں ہوگی۔
آلائشوں کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کے چند آسان طریقے:
آلائشوں کو کھلی جگہ یا نالوں میں ہرگز نہ پھینکیں بلکہ انہیں مضبوط تھیلوں میں اچھی طرح بند کر کے مقررہ جگہ پر رکھیں
* اگر ممکن ہو تو گڑھا کھود کر مٹی میں دبا دیں، کیونکہ مٹی میں دبانے سے بدبو کم پھیلتی ہے، جراثیم محدود رہتے ہیں اور فضلہ ماحول میں بکھرنے سے بچ جاتا ہے
* قربانی کی جگہ پر پانی، phenyl یا disinfectant کا استعمال کریں تاکہ جراثیم اور بدبو کم ہو
* اوجڑی اور فضلہ فوری طور پر ٹھکانے لگائیں تاکہ تعفن پیدا نہ ہو
* خون اور باقی گندگی کو نالیوں میں بہانے کے بجائے مناسب طریقے سے صاف کریں تاکہ پانی آلودہ نہ ہو
اگر ہم صرف تھوڑی سی ذمہ داری اور شعور کا مظاہرہ کریں تو ہم نہ صرف ایک اچھے مسلمان بلکہ ایک ذمہ دار شہری بھی بن سکتے ہیں۔
جہاں ہم لاکھوں روپے کے جانور خرید سکتے ہیں، وہاں اگر چند ہزار روپے صفائی، garbage bags، disinfectant اور مناسب انتظام پر خرچ کر لیں تو یہ ایک نہایت خوبصورت اور ذمہ دار عمل ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ کوڑا اٹھانے والے عملے یا متعلقہ اداروں سے رابطے میں رہنا بھی ضروری ہے تاکہ فضلہ بروقت اٹھایا جا سکے اور تعفن پیدا نہ ہو۔
حتیٰ الامکان گلی محلوں یا تنگ راستوں میں قربانی کرنے کے بجائے کھلی اور مناسب جگہوں کا انتخاب کرنا چاہیے، تاکہ صفائی آسان رہے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے
قربانی کا اصل پیغام صرف جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ اپنی ذات، اپنی سوچ، اپنے رویوں، اپنی ذمہ داریوں اور اپنے ماحول کو بہتر بنانے کا بھی نام ہے۔صاف ماحول بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایک چھوٹا سا مثبت عمل معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
یاد رکھیں،صفائی نصف ایمان ہے، اور ایک ذمہ دار مسلمان وہی ہے جو اپنی عبادت کے ساتھ دوسروں کے سکون اور ماحول کا بھی خیال رکھے۔
عید کی خوشیوں کا لطف ضرور اٹھائیں اور ساتھ ساتھ ماحول کو بھی اپنے اچھے اعمال، صفائی اور ذمہ داری سے خوشگوار بنائیں۔
آئیے اس عید“صاف ماحول، ذمہ دار قربانی”کا پیغام عام کریں۔
اللہ تعالیٰ ہماری قربانی، نیت اور اعمال کو قبول فرمائےاور ہمارے معاشرے کو صفائی، آسانی اور خیر کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔