بیجنگ :(چائنا ڈیسک) ینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں میانمار کے وزیرِ خارجہ تھن ماونگ سوے کے ساتھ بات چیت کی ۔جمعہ کے روز وانگ ای نے کہا کہ چین اور میانمار کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 76 برس مکمل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک نے باہمی دوستی اور اچھے ہمسایہ تعلقات کی ایک عمدہ مثال قائم کی ہے۔چین داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر قائم ہے اور میانمار کی جانب سے قومی امن اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ چین میانمار کے ساتھ اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو مضبوط بنانے، اسٹریٹجک تعاون کو گہرا کرنے اور چین۔میانمار ہم نصیب معاشرے کی تعمیر میں مزید عملی نتائج حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔تھن ماونگ سوے نے کہا کہ میانمار ایک چین کے اصول پر ثابت قدمی سے کاربند ہے اور چین کے داخلی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ میانمار کی نئی حکومت چین۔میانمار اقتصادی راہداری کی تعمیر کو آگے بڑھانے کی خواہاں ہے اور مزید چینی کمپنیوں کا میانمار میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔ میانمار آن لائن جوئے اور ٹیلی کام فراڈ کے خلاف مضبوطی سے کارروائیاں جاری رکھے گا اور میانمار میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔میانمار کی نئی حکومت ملک میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور امید کرتی ہے کہ چین اس سلسلے میں اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
Trending
- اسلام آباد میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو اور سی پیک میں چین اور پاکستان کے مشترکہ کردار پر سیمینار کا انعقاد
- آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، مسلم لیگ کا کردار مثبت اور فیصلہ کن ہوگا: چوہدری شجاعت حسین
- فیفا ورلڈکپ: امریکا پہنچنے پر سینیگال فٹبال ٹیم کی سخت چیکنگ کی ویڈیو وائرل
- سونا مہنگا ہوگیا؛ 3 دن وقفے کے بعد قیمتیں آج بڑھ گئیں
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے