پاور سیکٹر میں جدت کی جانب قدم؛ پبلک سیکٹر میں پہلی بار ڈیٹا گورننس کونسل قائم
اسلام آباد:
ملکی پاور سیکٹر میں جدت اور مؤثر حکمرانی کے فروغ کے لیے وزیر توانائی اویس لغاری کی قیادت میں پبلک سیکٹر کی پہلی ڈیٹا گورننس کونسل قائم کر دی گئی ہے۔
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی مشاورت اور شمولیت سے تشکیل دی گئی کونسل میں پاور سیکٹر کے تمام متعلقہ اداروں کی نمائندگی شامل ہے۔
حکام کے مطابق جنریشن کمپنیوں، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، ٹرانسمشن کمپنیوں اور ریگولیٹری اداروں کے ڈیٹا کو پہلی مرتبہ ایک مربوط نظام کے تحت ہم آہنگ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک جدید، مربوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ پاور ڈیٹا ایکو سسٹم میسر آئے گا۔
اس سے قبل پاور سیکٹر کے مختلف ادارے الگ الگ اعداد و شمار اور نظام استعمال کر رہے تھے، جس کے باعث کمزور کوالٹی کنٹرول اور ناکافی ڈیٹا سیکیورٹی کے سبب متضاد رپورٹس سامنے آتی تھیں۔ڈیٹا میں ہم آہنگی نہ ہونے سے منصوبہ سازی اور فیصلہ سازی کے عمل بھی متاثر ہوتے تھے۔
پاور ڈویژن کے مطابق ڈیٹا گورننس کونسل کو عالمی معیار DAMA-DMBOK کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ کونسل کی نگرانی میں ایک مرکزی ڈیٹا ریپوزیٹری قائم کی جائے گی جو پورے شعبے کا ڈیٹا ایک واحد، مستند اور قابل تصدیق پلیٹ فارم پر یکجا کرے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ کونسل کے قیام سے ادارے، منصوبہ ساز، ریگولیٹرز اور سرمایہ کار ایک ہی قابل اعتماد ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کر سکیں گے۔ اس سے بجلی کی طلب کا درست تخمینہ لگانے، انفرا اسٹرکچر کی ترقی، خطرات کی بروقت نشاندہی اور وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد ملے گی۔
پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام شفافیت، بین الاقوامی سرمایہ کاری اور مستقبل کی مضبوط بنیاد کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
حکومت پاکستان ڈیٹا کو ایک اہم قومی اثاثہ تصور کرتی ہے اور اس اقدام کے ذریعے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو تصدیق شدہ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے سرمایہ کاری کے فیصلوں کا عمل تیز ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ اس پیش رفت سے پاکستان توانائی کے شعبے میں طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک شفاف اور قابل اعتماد مقام کے طور پر ابھرے گا۔ حکومت پاکستان کو ڈیٹا گورننس کونسل کے اس تاریخی اقدام پر فخر ہے اور توقع ہے کہ یہ کونسل شفاف، ذمہ دار اور مؤثر حکمرانی کے لیے مضبوط اور پائیدار بنیاد فراہم کرے گی۔
پی این پی