بیجنگ :چین کے اقوام متحدہ جنیوا دفتر اور سوئٹزرلینڈ میں دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے مستقل نمائندے جیا گوئی دِہ نے انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس میں تقریباً 20 ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ بیان پیش کیا، جس میں ” جبری مشقت نام پر غیر منصفانہ ٹیرف عائد کرنے اور یکطرفہ دباؤ کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غربت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک کے عوام کے روزگار اور ترقی کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ بعض ممالک "جبری مشقت” کے نام پر تجارتی ٹیرف کا غلط استعمال کر رہے ہیں، جو دراصل ایک یکطرفہ دباؤ اور معاشی جبر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بیان کے مطابق ایسے اقدامات عالمی سپلائی چین اور صنعتی چین کو متاثر کرتے ہیں، کارکنوں کے باعزت روزگار کے حق کو نقصان پہنچاتے ہیں اور عالمی سطح پر غربت کے خاتمے کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں۔ مشترکہ بیان میں متعلقہ ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ حقائق کا احترام کریں، اقتصادی و تجارتی مسائل کو سیاسی رنگ دینے اور انسانی حقوق کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے گریز کریں، اور عالمی تجارتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ عالمی ترقی اور غربت میں کمی کے عمل کو سہارا مل سکے۔ یہ بیان پاکستان ،روس ، کیوبا، وینزویلا، سوڈان اور کمبوڈیا سمیت متعدد ممالک کی حمایت سے پیش کیا گیا، جبکہ ترقی پذیر ممالک نے بھی اس موقف کی بھرپور تائید کی۔
Trending
- کراچی؛ شاہراہ فیصل پولیس سے مقابلہ کرنے والے 3 ڈاکو گرفتار، اسلحہ برآمد
- فیفا ورلڈ کپ، آئیوری کوسٹ نے کوراکاؤ کو شکست دے کر پہلی بار ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گیا
- چینی صدر کا وینزویلا میں شدید زلزلے پر افسوس کا اظہار
- چین ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں کمبوڈیا کی بھرپور حمایت کرتا ہے، چینی صدر
- چین اور بنگلہ دیش کا ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کا اعلان
- چائنا میڈیا گروپ اور بنگلہ دیش کے میڈیا اداروں کے درمیان تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط
- چین کا 20 ممالک کے ساتھ مشترکہ بیان، ٹیرف کے نام پر یکطرفہ اقدامات پر تنقید
- سمر ڈیووس فورم کے اختتام پر چین کی اختراع عالمی بحث کا مرکز بن گئی
- وسیع پیمانے پر اختراع چین کے نئے ترقیاتی مواقع کی علامت ہے ، چینی میڈیا
- چین اور بنگلہ دیش کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق