بیجنگ :کمرشل ایئرکرافٹ کارپوریشن آف چائنا کے مطابق ،چین کے مقامی طور پر تیار کردہ C909 مسافر بردار طیاروں کے کمرشل آپریشن کو دس سال مکمل ہو چکے ہیں۔اس دوران اس ماڈل کے 186 طیارے مختلف فضائی کمپنیوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں، جو چین کے علاقائی مسافر بردار طیاروں کے بیڑے کا 70 فیصد بنتے ہیں۔ دس سال کے آپریشن کے بعد ابC909 چین کی علاقائی فضائی نقل و حمل کی مارکیٹ میں ایک اہم جہاز بن گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس طیارے کا منصوبہ 2002 میں شروع کیا گیا تھا جبکہ اس نے 2008 میں پہلی آزمائشی پرواز کی۔ یہ طیارہ بنیادی طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے شہروں اور مرکزی ہوائی اڈوں کے درمیان مسافروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ سی 919 جیسے بڑے مسافر بردار طیاروں کے ساتھ مل کر مختلف فضائی راستوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ سی 909 نے 2016 میں باقاعدہ تجارتی پروازوں کا آغاز کیا اور شہری فضائی نقل و حمل کی منڈی میں شامل ہوا۔ تاحال دس سے زائد فضائی کمپنیوں کو سی 909 کےکل 186 طیارے فراہم کیے جا چکے ہیں، جو چین کے اندر علاقائی جیٹ فلیٹ کا 70 فیصد بنتے ہیں اور اب تک 37 ملین سے زیادہ مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کر چکے ہیں۔اس وقت 860 سے زائد فضائی روٹس شروع کیے جا چکے ہیں، 180 سے زائد شہروں میں خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، اور روزانہ 500 سے زائد پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔ مزید برآں، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت C909طیارہ چین کے ہمسایہ علاقوں میں اپنی بین الاقوامی پروازوں کا دائرہ بھی مسلسل وسیع کر رہا ہے، جس سے ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں کو جوڑنے والی ایک فضائی راہداری قائم ہو رہی ہے۔
Trending
- سپریم جوڈیشل کونسل، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف کیخلاف شکایت خارج
- فیفا ورلڈ کپ، پرتگال اور کولمبیا کا میچ بغیر کسی گول کے برابر
- New allegations against Sania Ashfaq ex-husband Imad Wasim cricketer reacts strongly threatens
- پنجاب بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ
- یو ایف ایس سی کا ودآؤٹ بارڈرزمنصوبہ بین الاقوامی طلبہ کے لیے امید کی نئی کرن
- برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ ٹیم لاہور، اسلام آباد ایئرپورٹس کی سیفٹی آڈٹ کرنے پاکستان پہنچ گئی
- فیفا ورلڈ کپ، کانگو نے ازبکستان کو شکست دے کر میگا ایونٹ میں نئی تاریخ رقم کر دی
- سیف علی خان کا چاقو حملے کے ایک سال سے زائد عرصے بعد نیا انکشاف
- یورپ کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہر کا ہائی الرٹ جاری
- ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں کے جواب میں یورپی یونین کا سخت ردعمل