News Views Events
Apna Watan

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، 1300 سے زائد اضافی اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) یورپ کے مختلف ممالک ان دنوں شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث روزمرہ زندگی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اموات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 21 جون کے بعد سے اب تک 1300 سے زیادہ اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

رواں ہفتے یورپ کے متعدد علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جس کے نتیجے میں اسپتالوں، ریسکیو اداروں اور ایمرجنسی سروسز پر غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا۔ ہنگامی امداد کے مراکز کو موصول ہونے والی کالز میں بھی نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ گرمی کی شدت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یورپ کے بہت سے گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کا بنیادی ڈھانچہ اس قدر بلند درجہ حرارت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔

فرانس کے ادارۂ صحت ’’پبلک ہیلتھ فرانس‘‘ کے مطابق صرف چند دنوں کے دوران متوقع اعداد و شمار کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات سامنے آئی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 24 جون کے بعد اموات کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بڑی وجہ شدید گرمی قرار دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب جرمنی کے شہر لیپزگ میں بھی شدید درجہ حرارت نے ٹرانسپورٹ کے نظام کو متاثر کیا۔ گرمی کے باعث کئی مقامات پر سڑکوں کا اسفالٹ نرم پڑ گیا جبکہ ٹرام کی پٹریوں اور ان کے جوڑوں کو بھی نقصان پہنچا، جس کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر ٹرام سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔

ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شدید دھوپ کے اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کی خصوصی دیکھ بھال کو یقینی بنائیں تاکہ گرمی سے پیدا ہونے والے خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

پی این پی

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.