News Views Events
Apna Watan

کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کے 105 سال

0

اعتصام الحق

 

 

یکم جولائی 2026  کو   کمیو نسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) اپنے قیام کی  ایک سو پانچویں   سالگرہ منا رہی ہے ۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ محض ایک سیاسی جماعت کے ایک سو پانچ سال نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی سفر  ہے جس نے چین کو کمزوری، غربت اور بیرونی مداخلت کے دور سے نکال کر دنیا کی بڑی معاشی اور تکنیکی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔

یکم جولائی 2026 کو بیجنگ میں اس  سالگرہ کے حوالے سے ایک شاندار اور باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔چین کے صدر شی جن پھنگ نے اس موقع پر ایک اہم تقریر میں کہا کہ  کمیونسٹ پارٹی آف چائناکے تمام اراکین کو اپنے  نظریات کےاعتبار  سے مضبوط رہنا چاہیے اور نئے دور اور نئے سفر میں پارٹی کے مشن کو پورا کرنے کے لیے مسلسل کوشاں رہنا چاہیے۔  انہوں نے واضح کیا کہ پوری پارٹی کو اپنی بنیادی تھیوری، بنیادی لائن اور بنیادی پالیسی پر کاربند رہنا ہوگا، عوام پر بھروسہ کرتے ہوئے تاریخی کارنامے تخلیق کرنے ہوں گے، راستے میں آنے والے خطرات اور چیلنجوں کا فعال طور پر مقابلہ کرنا ہوگا، مشترکہ انسانی مستقبل کی تشکیل کو فروغ دینا ہوگا، اور پارٹی میں  اپنی اصلاح  کے عمل  کو اور سخت طریقے سے جاری رکھنا ہوگا۔ یہ تمام نکات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ  کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اپنی قیادت میں عوام کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھتے ہوئے داخلی استحکام اور عالمی ذمہ داریوں کو یکجا کرتی ہے۔اس موقع پر یکم جولائی کا تمغہ بھی 8 پارٹی اراکین کو دیا گیا جنہوں نے اپنی زندگی میں چینی عوام کی بے لوث خدمت کی ۔

 

سن 1921 میں جب  کمیو نسٹ پارٹی آف چائنا قائم ہوئی تو اس وقت چین اندرونی انتشار، معاشی پسماندگی اور غیر ملکی طاقتوں کے دباؤ کا شکار تھا۔ اس پس منظر میں پارٹی نے چینی عوام کی خوشحالی اور قوم کی نشاۃِ ثانیہ کو اپنا بنیادی مقصد قرار دیا۔ گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے کے دوران پارٹی نے مختلف ادوار میں چینی عوام کی قیادت کرتے ہوئے قومی آزادی، معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے اہداف حاصل  کیے ۔

 

آج کا چین اس طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت، جدید انفراسٹرکچر، تیز رفتار ریلوے نظام، خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور جدید صنعتی ترقی جیسے شعبوں میں چین کی کامیابیاں عالمی سطح پر نمایاں ہیں۔ کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالنا اور عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لانا بھی انہی کامیابیوں کا حصہ ہے۔

 

یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ آخر کون سی خصوصیات ہیں جنہوں نے   کمیونسٹ پارٹی آف چائنا  کو مسلسل ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رکھا؟ اس کا جواب پارٹی کے عوامی طرزِ فکر، مضبوط تنظیمی ڈھانچے، مسلسل جدت پسندی، خود احتسابی اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہے۔

 

اس سیاسی جماعت کا ہمیشہ اس بات پر زور رہا ہے کہ عوام ہی اس کی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ اسی سوچ کے تحت عوامی فلاح و بہبود کو ترقیاتی پالیسیوں کا مرکز بنایا گیا۔ غربت کے خاتمے کی مہم اس کی ایک نمایاں مثال ہے جس کے نتیجے میں چین نے مکمل غربت کے خاتمے کا تاریخی ہدف حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دے کر عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی گئیں۔

 

چین کے شہروں اور دیہی علاقوں میں آج جو ترقی دکھائی دیتی ہے، اس میں جدید سڑکوں، پلوں، ہوائی اڈوں، بجلی کے نظام اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کا اہم کردار ہے۔ ان منصوبوں نے نہ صرف معیشت کو مضبوط کیا بلکہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کو بھی آسان بنایا ہے۔

 

اس پارٹی کی ایک اہم خصوصیت اس کی طویل المدتی منصوبہ بندی ہے۔ جہاں دنیا کے بعض سیاسی نظام انتخابی سیاست اور مختصر مدت کے مفادات کے گرد گھومتے ہیں، وہاں چین میں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں کی روایت کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ یہی تسلسل قومی ترقی کے اہداف کو واضح سمت فراہم کرتا ہے اور پالیسیوں کے نفاذ میں استحکام پیدا کرتا ہے۔

 

پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ بھی اس کی طاقت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں بنیادی سطح کی تنظیمیں اور کروڑوں اراکین ایک مربوط نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔ اس وسیع نیٹ ورک کی بدولت قومی اہداف کو مقامی سطح تک پہنچانا اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد ممکن ہوتا ہے۔

 

وقت کے ساتھ بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا اور نظریاتی جمود سے گریز کرتے ہوئے چین کے مخصوص حالات اور روایات کو مدنظر رکھ کر ترقی کا اپنا راستہ اختیار  کرنا ایک اہم خاصیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور صنعتی جدت کو قومی ترقی کا اہم ستون بنایا ہے۔

 

اسی طرح خود احتسابی اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کو بھی پارٹی نے اپنی حکمرانی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ پارٹی قیادت اس بات پر زور دیتی ہے کہ عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے نظم و ضبط اور شفافیت ضروری ہیں۔ چنانچہ بدعنوانی کے خلاف مہمات کو مسلسل جاری رکھا گیا ہے تاکہ سرکاری نظام زیادہ مؤثر اور جوابدہ بن سکے۔

 

عالمی سطح پر بھی چین نے اپنے کردار کو وسعت دی ہے۔ آج چین تجارت، سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون اور بین الاقوامی روابط کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں سے جڑا ہوا ہے۔ چین عالمی امن، کثیرالجہتی تعاون اور مشترکہ ترقی کے تصور کو فروغ دینے کی بات کرتا ہے اور مختلف بین الاقوامی اقدامات کے ذریعے عالمی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

آج چین ایک نئے دور کے سفر پر گامزن ہے۔ جدیدیت، اعلیٰ معیار کی ترقی، سائنسی جدت اور عوامی خوشحالی کے اہداف اس کے مستقبل کی سمت متعین کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک صدی کے تجربات اور کامیابیوں کی بنیاد پر  کمیونسٹ پٌارٹی آف چائنا  خود کو اس قابل سمجھتی ہے کہ وہ چین کو قومی احیاء اور جدید ترقی کے اگلے مرحلے تک لے جائے اور دنیا کے ساتھ مل کر ایک بہتر مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.