اعتصام الحق
چین کے جغرافیے کو دیکھا جائے تو ایک دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے۔ ملک کے جنوبی حصے میں پانی کے بڑے ذخائر اور دریاؤں کا وسیع نظام موجود ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں آبادی، صنعت اور زراعت کی ضروریات زیادہ ہونے کے باوجود پانی کے وسائل محدود ہیں۔ یہی فرق کئی دہائیوں سے چین کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جنوبی علاقوں کے پانی کو شمال کی جانب منتقل کرنے کا ایک وسیع منصوبہ تشکیل دیا گیا، جسے ساؤتھ ٹو نارتھ واٹر ڈائیورژن پراجیکٹ کا نام دیا گیا۔
اس منصوبے کا تصور نیا نہیں تھا۔ چین میں جنوبی علاقوں کے اضافی پانی کو شمالی علاقوں تک پہنچانے کا خیال کئی دہائیوں تک زیر بحث رہا۔ وقت کے ساتھ اس منصوبے کے مختلف راستوں کا جائزہ لیا گیا۔ چین کے دریاؤں، جغرافیہ، آبادی اور پانی کی ضروریات کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد منصوبے کو مشرقی، وسطی اور مغربی راستوں میں تقسیم کرنے کا تصور سامنے آیا۔
بالآخر وسطی راستے کو اس منصوبے کا اہم حصہ بنایا گیا۔ اس راستے کی تعمیر 2003 میں شروع ہوئی اور کئی برسوں کی محنت، انجینئرنگ اور بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیوں کے بعد دسمبر 2014 میں اس سے پانی کی باقاعدہ ترسیل شروع ہوئی۔ یوں ایک ایسا منصوبہ عملی شکل اختیار کر گیا جسے مکمل ہونے میں کئی دہائیاں لگیں۔
چین کے جنوب سے شمال تک پانی کی منتقلی کے منصوبے کا وسطی راستہ ہوبئی اور ہینان کی سرحد پر واقع دریائے ہان جیانگ کے ڈان جیانگ کو آبی ذخیرے سے شروع ہوتا ہے۔ یہ پانی تقریباً ۱,۴۳۲ کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے ہینان اور ہیبی صوبوں سے گزرتا ہے اور بالآخر دارالحکومت بیجنگ اور بندرگاہی شہر تیانجن تک پہنچتا ہے۔اس راستے کی خاص بات یہ ہے کہ پانی کے بڑے حصے کو قدرتی بلندی اور کششِ ثقل کی مدد سے آگے منتقل کیا جاتا ہے، جس کے لیے پیچیدہ انجینئرنگ اور انتہائی درست منصوبہ بندی کی ضرورت تھی۔
اب اس منصوبے کے نتائج نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ منصوبے کے آپریٹر کے مطابق وسطی راستے نے اپنے آغاز سے اب تک 80 ارب مکعب میٹر سے زیادہ پانی شمالی علاقوں کو منتقل کیا ہے۔ اس پانی سے ہینان ، ہیبی ، بیجنگ اور تیانجن میں تقریباً 11 کروڑ 80 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ منصوبے کے راستے میں آنے والے 27 بڑے اور درمیانے درجے کے شہروں کے 243 کاؤنٹی سطح کے علاقوں کو بھی اس پانی سے فائدہ پہنچا ہے۔
اس منصوبے کا سب سے نمایاں فائدہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہے۔ بیجنگ جیسے بڑے شہر میں آبادی اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ پانی کی طلب مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ جنوبی علاقوں سے آنے والے پانی نے شمالی چین کے کئی شہروں کے لیے پانی کے ذرائع پر دباؤ کم کرنے میں مدد دی ہے۔ اس طرح لاکھوں شہریوں کے لیے پانی کی دستیابی زیادہ مستحکم ہوئی ہے۔
اس منصوبے کے اثرات صرف شہروں تک محدود نہیں۔ پانی کی بہتر دستیابی نے دریاؤں اور جھیلوں کے ماحولیاتی نظام کی بحالی میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ جن علاقوں میں پانی کی کمی کے باعث آبی ذخائر دباؤ کا شکار تھے، وہاں پانی پہنچنے سے ماحولیاتی صورتحال بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ دریاؤں اور جھیلوں میں پانی کی سطح برقرار رکھنے سے مقامی ماحول اور آبی حیات کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
اس منصوبے کا ایک اور اہم پہلو چین کی معاشی ترقی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پانی کسی بھی صنعت، شہر اور زرعی نظام کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ شمالی چین کے بڑے شہروں اور صنعتی علاقوں کو نسبتاً مستحکم آبی وسائل ملنے سے اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا ملا ہے۔ یوں جنوبی اور شمالی چین کے درمیان صرف پانی ہی منتقل نہیں ہوا بلکہ اس کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم بنیادی سہولت بھی فراہم ہوئی ہے۔
تاہم اس منصوبے کی اہمیت کو صرف اس کے حجم سے نہیں ناپا جا سکتا۔ 80 ارب مکعب میٹر سے زیادہ پانی کی منتقلی اس بات کی علامت ہے کہ چین نے اپنے مختلف علاقوں میں پانی کے غیر مساوی قدرتی وسائل کو ایک بڑے قومی منصوبے کے ذریعے متوازن کرنے کی کوشش کی ہے۔
آج جب دنیا کے کئی ممالک پانی کی کمی، بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹ رہے ہیں، چین کا یہ تجربہ اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ بڑے آبی مسائل سے نمٹنے کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے اور وسائل کی منظم تقسیم کس قدر اہم ہو سکتی ہے۔
جنوب سے شمال تک پانی کا یہ سفر دراصل چین کے ایک ایسے طویل خواب کی عملی شکل ہے جس کا مقصد صرف ایک خطے کی پیاس بجھانا نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں پانی کے وسائل کو زیادہ متوازن انداز میں استعمال کرنا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس منصوبے کے ماحولیاتی، شہری اور معاشی اثرات مزید نمایاں ہونے کی توقع ہے۔