News Views Events
Apna Watan

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کی توقع ہے: گورنر اسٹیٹ بینک

0

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد— فائل فوٹو

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کاروباری طبقے کی کوششوں سے معاشی صورتِ حال میں بہتری آئی ہے، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کی توقع ہے۔

کراچی میں میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال میں معاشی نمو کا سلسلہ جاری رہے گا اور گزشتہ مالی سال کی معاشی نمو بھی اسٹیٹ بینک کی توقعات کے مطابق رہی۔

انہوں نے بتایا ہے کہ جون میں مہنگائی کی شرح 11.8 فیصد رہی، سالانہ مہنگائی بھی توقعات کے مطابق رہی، مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کے باعث مہنگائی توقعات سے کچھ زیادہ رہی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 2022ء میں 17.5 ارب ڈالرز کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سب سے بڑا مسئلہ تھا اور اس وقت یہ جی ڈی پی کا 4 فیصد تھا، تاہم مالی سال 26-2025ء کے 11 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سر پلس رہا ہے جبکہ بارہویں ماہ کے اعداد و شمار جمع کیے جا رہے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے اختتام پر زرِمبادلہ کے ذخائر 5.5 ارب ڈالرز اضافے کے بعد 18.4 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے، جبکہ 5 ارب ڈالرز کے واجبات بھی کم کیے گئے ہیں، حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کاروباری طبقے کی کوششوں سے معاشی صورتِ حال میں بہتری آئی ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ گزشتہ 4 برس میں بیرونی قرض تقریباً وہیں ہے جہاں پہلے تھا، جبکہ 15 دن کی درآمدات کے لیے درکار ذخائر سے کئی سو فیصد زیادہ زرِمبادلہ موجود ہے، جس سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کی توقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شارٹ ٹرم کمرشل قرض کو ملٹی لیٹرل لانگ ٹرم قرض میں منتقل کیا گیا ہے، قرض کی اوسط ادائیگی بہتر ہوئی ہے، یورو بانڈ بہتر شرائط پر جاری کیا جائے گا اور بیرونی قرض پر سود بھی کم ہو گا، اس وقت پاکستان کمرشل قرض کے بجائے طویل مدت کا قرض لے رہا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 2015ء سے 2022ء تک ملک کا بیرونی قرض سالانہ 6 ارب ڈالرز بڑھ رہا تھا، جبکہ 2022ء کے بعد سے بیرونی قرض میں اضافہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات اور ورکرز ترسیلاتِ زر زرِمبادلہ کے اہم ذرائع ہیں، مالی سال 2026ء میں ورکرز ترسیلات 41.5 ارب ڈالرز سے زیادہ رہیں گی اور آئندہ مالی سال میں یہ گزشتہ مالی سال سے بھی بہتر ہوں گی۔

جمیل احمد نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کے باوجود اندازہ تھا کہ ترسیلات میں 1 ارب ڈالرز سے زیادہ کمی نہیں ہو گی، 200 ڈالرز سے زائد کی ترسیلات پر بینک تمام اخراجات برداشت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سونی دھرتی اسکیم ختم کر کے اس سے بہتر نئی اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے، جس میں انعامات بھی شامل ہوں گے، اس کا مقصد ورکرز ترسیلات کے بہاؤ کو برقرار رکھنا ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے لائف لائن ہیں اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافے تک ان پر انحصار برقرار رہے گا۔



پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.