بیجنگ :چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس کانفرنس میں نام نہاد “بحیرۂ جنوبی چین ثالثی فیصلے” پر تبصرہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ چین متعدد مواقع پر واضح کر چکا ہے کہ نام نہاد “ثالثی فیصلہ” غیر قانونی، کالعدم اور کسی بھی قسم کی قانونی حیثیت یا پابندی کا حامل نہیں ہے۔ چین نہ اسے قبول کرتا ہے، نہ تسلیم کرتا ہے، اور نہ ہی اس نام نہاد فیصلے کی بنیاد پر کیے جانے والے کسی بھی دعوے یا اقدام کو قبول کرے گا۔انہوں نے کہا کہ “بحیرۂ جنوبی چین میں فریقین کے طرزِ عمل کے ضابطۂ کار” کی تیاری،”بحیرۂ جنوبی چین میں فریقین کے طرزِ عمل سے متعلق اعلامیے” پر عمل درآمد کا ایک اہم اقدام ہے اور یہ چین اور آسیان ممالک کے درمیان ایک اہم اتفاقِ رائے بھی ہے۔ماؤ ننگ نے کہا کہ چین ہمیشہ سے آسیان ممالک کے ساتھ مشاورت کے عمل کو تیز کرنے، جلد از جلد “ضابطۂ کار” پر اتفاقِ رائے تک پہنچنے اور مشترکہ طور پر بحیرۂ جنوبی چین میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پرعزم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد “ثالثی فیصلے” کا “ضابطۂ کار” سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا فلپائن کو چاہیے کہ وہ اس نام نہاد فیصلے کو “ضابطۂ کار” کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔
Trending
- ای سی سی اجلاس: غیر ملکی سپلائرز کے اکاؤنٹ پر پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی منظوری
- سینیٹ اجلاس : عمران خان کے معاملے پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ
- کیمپ میں زیادہ تر میچز بوائز کیساتھ کھیلنے کا ہمیں بہت فائدہ ہوا، فاطمہ ثنا
- ماضی کی مقبول اداکارہ اب کس حال میں ہیں؟ فلم’راز‘کے بعد سے منظرعام سے غائب تھیں
- سونے کی عالمی اور مقامی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ
- پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
- نئے کاروباری ہفتے کے پہلے روز سرمایہ کاری کا ملاجلا رجحان
- سعودی عرب میں ہزاروں برس قدیم نخلستان کے شواہد دریافت
- چین خطے میں اردن کے منفرد اور اہم کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، چینی صدر
- چینی صدر کی بنگلہ دیش کے صدر مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔