بیجنگ: مصنوعی ذہانت اور انسانی ترقی کے حوالے سے مکالمے کا اجلاس چین کے صوبہ شانشی کے شہر شیآن میں شروع ہوا۔ یہ اقوام متحدہ کی جانب سے رواں سال جون میں مصر اور جولائی میں میکسیکو میں منعقد کیے جانے والے مکالموں کے بعد تیسرا اجلاس ہے ۔ اس اجلاس کا مرکزی موضوع مصنوعی ذہانت کے انسانی ترقی، سماجی ڈھانچے اور ثقافتی اقدار پر گہرے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔اطلاعات کے مطابق، اس اجلاس میں پیش کیے جانے والے مختلف خیالات اور تجاویز کو یکجا کر کے ایک خصوصی رپورٹ مرتب کی جائے گی جو اقوام متحدہ کی اکیاسیویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مرحلہ وار نتائج کی صورت میں پیش کی جائے گی۔ اجلاس میں ہونے والی متعلقہ بحث “مستقبل کے معاہدے ” اور عالمی ڈیجیٹل معاہدے ” پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہو گی ۔ اس کے علاوہ یہ بحث مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی سے متعلق عالمی مکالمے کے لیے حوالہ بھی فراہم کرے گی۔
Trending
- وزارت داخلہ کا ویزوں سے متعلق اہم اعلان
- والد کی وفات کے بعد میسی کا پہلا گول، انٹر میامی کی مسلسل شکستوں کا سلسلہ رک گیا
- جاپان عملی اقدامات کے ذریعے چین۔جاپان معمول کے تبادلوں کے لیے ضروری حالات پیدا کرے ، چینی وزارت خارجہ
- چین کا آئندہ پانچ برسوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری مزید بڑھانے کا اعلان
- چین۔اردن تعلقات مسلسل گہرے اور مستحکم ہوئے ہیں، چینی عہدیدار
- چین، شی آن میں مصنوعی ذہانت اور انسانی ترقی کے حوالے سے مکالمے کے اجلاس کا آغاز
- چین-سوئٹزرلینڈ آزاد تجارتی معاہدے کی اپ گریڈیشن کے مذاکرات مکمل
- چین، اپیک انرجی تھنک ٹینک فورم 2026 کا دالیان انعقاد
- چائنا میڈیا گروپ کی دوسرے ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ اسپورٹس گیمز کی خصوصی کوریج
- چین کا فلپائن کو سخت انتباہ، اشتعال انگیز اقدامات فوری بند کرنے کا مطالبہ