News Views Events
Apna Watan

ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیشرفت، گرفتار ملزمان میں ایک ٹیچر بھی شامل

0

 ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کہا ہے ڈکیتی کے دوران فائرنگ کر کے ڈاکٹر آکاش کو قتل کرنیوالے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جن میں ایک ٹیچر بھی شامل ہے۔

کراچی میں ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا اور ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ فریئر کے علاقے میں ڈاکوؤں نے ڈاکٹر آکاش کو نشانہ بنایا۔

اسد رضا نے کہا کہ واقعہ کے بعد کمانڈ اینڈ کنٹرول کے، نجی اور سیف سی کے کیمروں کی جانچ کی، سو سے زائد سی سی ٹی وی دیکھی، ٹچر کی پہلے شناخت ہوئی اور پھر ملوث ساتھیوں کی بھی تلاش شروع کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بڑی کامیابی ملی، دو موٹر سائیکلوں کے علاؤہ ایک کار بھی واردات میں استعمال کی، ملزمان کی گاڑی ڈیفنس میں دکھی جہاں پولیس نے اسے روکا، تین ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سامان بھی برآمد، موبائل فون کیش اور واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا، مقتول کی فیملی کو بڑے خدشات تھے لیکن پولیس مسلسل رابطے میں رہیں، واردات کا مقدمہ کل فرئیر تھانے میں درج کرلیا گیا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ  نے کہا کہ دیگر ملزمان کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا، تینوں ملزمان پہلے بھی اس نوعیت کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں، ایک ملزم اشتہاری ہے جبکہ دیگر کو بھی گرفتار کیا جاچکا تھا پہلے۔

انہوں نے کہا کہ  جائے وقوعہ کے قریب ہی فرنچ قونصلیٹ سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، وہاں پر کیمروں کی مانیٹرنگ ہوتی رہتی ہے، آج سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ہی ہم ملزم تک پہنچے ہیں۔

ڈی آئی جی سائوتھ نے کہا کہ ملزمان کو سی سی ٹی وی کے ذریعے ہی گرفتار کیا گیا، تینوں ملزمان کا ڈیجیٹل دیتا بھی حاصل کیا گیا، تینوں ملزمان آپس میں رابطے میں تھے، جہاں سے پیسے نکالے گئے بوٹ بیسن سے وہاں بھی ملزمان موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ چار ملزمان موٹر سائیکلوں پر اور ایک ملزم کار میں تھا جو بیک اپ پر تھا، دیگر بھی اگر ملزمان ملوث ہوئے تو وہ بھی پکڑے جائیں گے۔

ڈی آئی جی سی آئی اے نے کہا کہ اس سال ڈکیتی کے دوران قتل کے 85 فیصد کیس حل ہو کے ہیں، واقعات میں ملزمان گرفتار بھی ہوئے، سائوتھ میں ڈکیتی کے دوران قتل کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کیش ایک بینک سے نکال کر دوسرے میں جمع کروانے جارہے تھے، فرئیر تھانے کی حدود میں واردات ہوئی اور گرفتاری ڈیفنس تھانے کی حدود سے ہوئی، گرفتار ملزمان کا تعلق بھی ہندو برادری سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ملزمان کا تعلق اندرون سندھ سے ہے اور وہ قائد آباد کے رہائشی تھے، ہم نے میرٹ پر تفتیش کی ہی پولیس پر کائی دبائو نہیں تھا، ایک منفی پروپیگنڈا کیا جارہا تھا لیکن ایسا نہیں ہے، ایک شوٹر ہے سریش ہے وہ گرفتار ہے دیگر دو ساتھی بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سریش پر مختلف تھانوں میں دس مقدمات درج ہیں، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے، اتفاق سے مقتول اور ملزمان کا تعلق ایک ہی برادری سے ہے۔



پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.