News Views Events
Apna Watan

سابق پاکستانی سفیر کی چین میں انسانوں اور ہاتھیوں کے پرامن بقائے باہمی کے لئے چینی کوششوں کی ستائش

0

کونمنگ (شِنہوا) سرسبز استوائی بارانی جنگلات اور بھرپور حیاتیاتی تنوع سے گھرا ہوا چین کا جنوب مغربی شی شوانگ باننا دائی خودمختار پریفیکچر اس بات کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کو بیک وقت آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ورلڈ میئرز ڈائیلاگ شی شوانگ باننا 2026 کے دوران چین میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے جنگلی ہاتھیوں کی وادی کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے ایشیائی ہاتھیوں کے تحفظ اور انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لئے چین کی طویل مدتی کوششوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
اس دورے کی ایک اہم خاص بات بارانی جنگل میں 4 کلومیٹر سے زیادہ لمبا بنایا گیا پیدل راستہ تھا۔ زمین سے اونچے ستونوں پر تعمیر کیا گیا یہ راستہ نیچے زمین پر کسی بھی قسم کے خلل کو کم سے کم کرتا ہے اور جنگلی ہاتھیوں کی نقل و حرکت کے راستوں کو کھلا رکھتا ہے۔ جب وفد نے اس جگہ کا دورہ کیا تو کئی جنگلی ایشیائی ہاتھی اس راستے کے نیچے نمودار ہوئے، جو اپنے قدرتی مسکن میں سکون سے پتے کھا رہے تھے۔
مسعود خالد نے کہا کہ وہ اس علاقے کے قدرتی حسن اور گزشتہ برسوں کے دوران مقامی حکام کی جانب سے کئے گئے کاموں سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں نے ذاتی طور پر بہت اچھی اور مفید معلومات حاصل کی ہیں کہ کس طرح مقامی حکومت نے اس قدرتی مسکن کو محفوظ رکھنے اور یہاں جنگلی جانوروں کی خاطر ایک قدرتی ماحول برقرار رکھنے کے لئے اتنے بڑے پیمانے پر کام کیا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق شی شوانگ باننا نے کئی دہائیاں ایشیائی ہاتھیوں کے مسکن کے تحفظ کو بہتر بنانے میں گزاری ہیں جبکہ مانیٹرنگ اور قبل از وقت وارننگ سسٹم جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنایا ہے تاکہ رہائشیوں اور سیاحوں کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں اور انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان ممکنہ تصادم کو کم کیا جا سکے۔
مسعود خالد نے اس بات پر زور دیا کہ جنگلی حیات کے تحفظ میں ٹیکنالوجی تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ہم یہاں لوگوں اور سیاحوں کو بروقت معلومات فراہم کرنے اور ساتھ ہی جانوروں کی فلاح و بہبود کے لئے جدید ذرائع اور ٹیکنالوجی کا عملی استعمال دیکھ رہے ہیں۔”
سابق سفیر نے اس متوازن ترقیاتی فلسفے پر بھی روشنی ڈالی جو ان کے بقول ان تحفظاتی کوششوں کے پس پشت کارفرما ہے۔
انہوں نے کہا کہ “جو چیز مجھے بہت دلچسپ لگی، وہ یہ ہے کہ پہلے تو میں یہاں کی ہریالی، خوبصورت مناظر، پھولوں اور نباتات و حیوانات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ دوسرا، جس طرح یہاں چیزوں کو انتہائی منصوبہ بندی سے ترتیب دیا گیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ چین کا یہ طریقہ کار انسانوں اور جنگلی حیات دونوں کی فلاح و بہبود کے لئے یکساں عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مسعود خالدنے کہا کہ “حکومت کے لئے نہ صرف انسانی فلاح و بہبود اہم ہے، بلکہ جانوروں کی فلاح و بہبود پر بھی یکساں توجہ دی جا رہی ہے۔ میرے خیال میں یہ بات بہت اہم ہے۔”
بین الاقوامی تعلقات کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے خالد نے کہا کہ پرامن بقائے باہمی کے تصور کا اطلاق انسانوں اور ججنگلی حیات کے درمیان تعلقات پر بھی کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “جب ہم اقوام کے درمیان سیاست کی بات کرتے ہیں تو پرامن بقائے باہمی کے 5 اصولوں کا ذکر کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ماحول بھی اسی کی عکاسی کرتا ہے یعنی انسانوں اور جانوروں کے درمیان ایک بہترین بقائے باہمی۔”
مسعود خالد کا ماننا ہے کہ چین کا یہ تجربہ ان ترقی پذیر ممالک کے لئے قیمتی اسباق فراہم کر سکتا ہے جو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ معاشی ترقی میں توازن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “چین نے اس شعبے سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں ہمہ جہت مہارت حاصل کی ہے، جس کا آج ہم خود مشاہدہ کر رہے ہیں۔”
“میرا خیال ہے کہ چین اس مہارت، علم اور ٹیکنالوجی کو ترقی پذیر ممالک میں منتقل کر سکتا ہے تاکہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے بہتر طور پر لیس ہو سکیں۔”
دورے کا احوال بیان کرتے ہوئے مسعود خالد نے کہا کہ انہوں نے اپنے قدرتی اثاثوں اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے چین کی کوششوں کی گہری سمجھ حاصل کی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی میں مضبوط بین الاقوامی تعاون کی امید کا اظہار کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.