شنگھائی (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجیز میں جدت کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھا گیا اور یہ ترقی جہاں بے شمار مواقع لے کر آئی ہے وہیں نظم و نسق کے حوالے سے نئے چیلنجز بھی لا رہی ہے۔
شنگھائی میں 2026 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں شی جن پھنگ نے کہا کہ انسانیت کو اس دور کے اہم سوالات کے جوابات دینا ہوں گے۔
شی نے سوالات اٹھائے کہ انسان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگی سے رہ سکتا ہے، الگورتھمز کی جانب سے فیصلہ سازی میں حصہ لینے کی صورت میں سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے، ٹیکنالوجی سے جنم لینے والے اخلاقی چیلنجز کا موثر اور ہم آہنگ طرز حکمرانی کے ذریعے کس طرح مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور جب ڈیجیٹل و تکنیکی خلیج مسلسل وسیع ہو رہی ہو تو مصنوعی ذہانت کے فوائد سب کے لئے کیسے یقینی بنائے جا سکتے ہیں۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ یہ ایسے بنیادی سوالات ہیں جن پر پوری عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا اور ان کے موثر جوابات تلاش کرنا ہوں گے۔
Trending
- بھارت کو انگلینڈ کیخلاف فیصلہ کن ون ڈے سے قبل بڑا دھچکا
- دورہ سری لنکا کیلیے پاکستان ویمن اسکواڈز کا اعلان، ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں
- ایڈہاک مینجمنٹ کا ہاکی بحالی اور کھلاڑیوں کو عالمی مواقع فراہم کرنے کیلیے تاریخی پروگرام کا انعقاد
- فیفا ورلڈ کپ 2026 فائنل کیلیے ٹکٹ کی قیمت نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے
- دنیائے فٹبال پر حکمرانی کی جنگ، فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل جاری، ارجنٹائن اور اسپین مدمقابل
- لیونل میسی کا لامین یامال کیساتھ اپنی وائرل تصویر پر دلچسپ ردعمل
- عمران خان سے ملاقاتوں کا کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
- فیفا ورلڈ کپ نے امریکی معیشت کو متاثر کر دیا، پیداواری صلاحیت میں 11.7 ارب ڈالر تک کمی
- پاکستان نے بھارتی جہازوں پر عائد فضائی حدود کی پابندیوں میں 24 اگست تک توسیع کردی
- فیفا ورلڈ کپ فائنل؛ کراچی میں مختلف مقامات پر میچ بڑی اسکرینز پر دکھانے کا اہتمام
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔