شنگھائی (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجیز میں جدت کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھا گیا اور یہ ترقی جہاں بے شمار مواقع لے کر آئی ہے وہیں نظم و نسق کے حوالے سے نئے چیلنجز بھی لا رہی ہے۔
شنگھائی میں 2026 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں شی جن پھنگ نے کہا کہ انسانیت کو اس دور کے اہم سوالات کے جوابات دینا ہوں گے۔
شی نے سوالات اٹھائے کہ انسان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگی سے رہ سکتا ہے، الگورتھمز کی جانب سے فیصلہ سازی میں حصہ لینے کی صورت میں سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے، ٹیکنالوجی سے جنم لینے والے اخلاقی چیلنجز کا موثر اور ہم آہنگ طرز حکمرانی کے ذریعے کس طرح مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور جب ڈیجیٹل و تکنیکی خلیج مسلسل وسیع ہو رہی ہو تو مصنوعی ذہانت کے فوائد سب کے لئے کیسے یقینی بنائے جا سکتے ہیں۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ یہ ایسے بنیادی سوالات ہیں جن پر پوری عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا اور ان کے موثر جوابات تلاش کرنا ہوں گے۔
Trending
- آر مادھون نے ممبئی میں کروڑوں کے گھر کی بالکونی میں سبزیاں اگانا شروع کردیں
- امریکا میں ڈیزل کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
- زائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی
- جسے تکلیف ہے مجھ پر تنقید کرے، کرکٹ کو ہدف نہ بنائے: محسن نقوی
- ممتھا بائیجو کی تامل فلم ’کارا‘ میں کاسٹنگ پر تنقید، اداکارہ کا دوٹوک جواب
- مہنگائی کے اثرات طبی آلات اور سرجیکل سامان کی قیمتوں تک بھی پہنچ گئے
- ایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتار
- بھارتی کرکٹر سمرتی مندھانا نے انٹرنیشنل کرکٹ میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
- صوفی اوپیرا گلوکارہ سارہ پیٹر کیلیے ستارۂ امتیاز کے اعلان پر خصوصی تقریب کا انعقاد
- کراچی: کپاس کی پیداوار میں غیر متوقع اضافہ، روئی کی درآمدات میں کمی کے امکانات
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔