ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو تجارت میں بڑی رکارٹ کیا ہے؟

اسلام آباد (3 جولائی 2026): قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو تجارت میں بڑی رکاوٹ کی نشاندہی کر دی گئی۔
چیئرمین جاوید حنیف کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو برآمدات میں 24 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ ایران کو ایک ماہ میں 14 ہزار ٹن آم درآمد کیا گیا ہے، جنگ کے دوران خلیجی ممالک سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں اضافہ ہوا۔
اس پر رکن کمیٹی شائستہ پرویز نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ خلیجی جنگ کے دوران برآمدات بڑھانے کیلیے ائیر فریٹس کو کم کروایا گیا، افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو تجارت میں مشکلات ہیں۔
وزارت تجارت کے حکام کے مطابق ایران سے وسطی ایشیا جانے کیلیے 20 سے 22 دن لگتے ہیں، جبکہ افغانستان سے 10 سے 12 دن میں برآمدات وسطی ایشیا پہنچ جاتی تھیں۔
سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش کے بعد ایران اور چین کا راستہ اختیار کیا گیا، ایران کے ساتھ تجارت میں بینکنگ چینلز نہ ہونا بڑی رکاوٹ ہے، افغانستان لینڈ لاکڈ مارکیٹ ہے اس میں پاکستان کیلیے بڑے فوائد ہیں، ایران کے ساتھ معاشی شراکت اور تجارتی روابط بڑھانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
رکن کمیٹی محمد نعمان نے مطالبہ کیا کہ پاکستان-ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی بریفنگ لی جائے۔ اس پر سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ یہ معاملہ وزارت پیٹرولیم کے ماتحت آتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی جاوید حنیف نے کہا کہ ایران کے ساتھ گیس درآمد کے معاہدے میں گیس کی قیمت مہنگی ہے۔



