اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دنیا کے معروف سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی کمپنیوں ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے سربراہ ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طویل عرصے سے متوقع ڈیجیٹل ادائیگی کی سروس “ایکس منی (X Money)” باضابطہ طور پر متعارف کرا دی ہے۔
اس نئی سروس کے ذریعے صارفین کو ڈیجیٹل والٹ، آن لائن رقم کی منتقلی اور دیگر مالیاتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ابتدائی مرحلے میں یہ سروس امریکا میں صرف ایکس پریمیئم اور پریمیئم پلس صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔کمپنی کے مطابق ایکس منی کے ذریعے صارفین پیئر ٹو پیئر (P2P) ادائیگیاں، بغیر فیس رقم کی منتقلی، ایپل والٹ کے ساتھ انضمام اور ایک خصوصی ویزا کارڈ حاصل کر سکیں گے، جس پر ان کا ایکس یوزر نیم بھی درج کیا جا سکے گا۔ مزید یہ کہ پریمیئم پلس صارفین کو سالانہ 6 فیصد تک منافع کی سہولت دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جبکہ عام پریمیئم صارفین مخصوص شرائط پوری کرنے کے بعد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ایلون مسک کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ان کے اس وژن کا اہم حصہ ہے جس کے تحت وہ ایکس کو ایک مکمل “ایوری تھنگ ایپ” میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی واضح کیا تھا کہ مستقبل میں مالیاتی لین دین سے متعلق تمام اہم سہولیات اسی پلیٹ فارم پر فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور حالیہ لانچ اسی منصوبے کی ایک بڑی پیش رفت ہے۔دوسری جانب اس نئی مالیاتی سروس پر کچھ خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بینکنگ اور مالیاتی خدمات کی فراہمی صارفین، قومی سلامتی اور مالیاتی نظام کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی سروسز کے لیے سخت قوانین اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔یاد رہے کہ ایلون مسک نے 2022 میں ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے ایکس رکھ دیا تھا۔ تب سے وہ اس پلیٹ فارم کو صرف سوشل میڈیا تک محدود رکھنے کے بجائے ایک ایسے جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں صارفین ادائیگیاں، بینکنگ، خریداری اور دیگر آن لائن مالیاتی خدمات ایک ہی جگہ سے حاصل کر سکیں۔
پی این پی
Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.