News Views Events
Apna Watan

جاپان اور امریکہ کی مشترکہ مداخلت بھی جاپانی ین کی گرتی ہوئی قدر کو نہیں روک سکتی، رپورٹ

0

بیجنگ: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ “امریکہ اور جاپان کی جانب سے زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کے نتیجے میں جاپانی کرنسی ین کی قدر میں بے ترتیب اتار چڑھاؤ کو مؤثر انداز میں قابو کیا گیا”۔ دوسری جانب جاپانی وزیر خزانہ ستسوکی کاتایاما نے بھی تصدیق کی کہ جاپان اور امریکہ نے زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ نے جاپان کے ساتھ مل کر یہ اقدام کیوں کیا، اور کیا یہ مشترکہ مداخلت واقعی ین کی گرتی ہوئی قدر کو سہارا دے سکتی ہے؟چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے امریکی امور کے ماہر ما وے کے مطابق، امریکہ کی جانب سے جاپان کے ساتھ ین کی شرحِ مبادلہ میں مداخلت کی بنیادی وجہ اس کے اپنے مالیاتی مفادات ہیں۔ جاپان اس وقت امریکی ٹریژری بانڈز کا سب سے بڑا غیر ملکی ہولڈر ہے۔ اگر ین کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو جاپانی حکومت شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے، جس سے امریکی طویل مدتی ٹریژری بانڈز کی شرحِ سود نمایاں طور پر بڑھے گی، جو پہلے سے ہی زیادہ ہے۔ اس تناظر میں مشترکہ مداخلت درحقیقت امریکہ کے اپنے مالیاتی مفادات کے تحفظ کی بھی ایک کوشش ہے۔ اس کے علاوہ، ڈالر کے مقابلے میں ین کی نسبتاً مستحکم شرحِ مبادلہ، امریکہ کے جاپان کے ساتھ تجارتی خسارے میں کمی اور بعض صنعتوں کی امریکہ واپسی کے لیے بھی مفید ہے۔ما وے کا کہنا ہے کہ درمیانی اور طویل مدتی لحاظ سے دیکھا جائے تو زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کے ذریعے ین کی گرتی ہوئی قدر کے بنیادی رجحان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور جاپان کے درمیان شرحِ سود کا نمایاں فرق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رواں سال اپریل میں جاپان نے ین کی قدر کو سہارا دینے کے لیے ایک ہی ماہ میں 70 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے، لیکن اس کے باوجود جون میں ڈالر کے مقابلے میں ین کی شرحِ مبادلہ دوبارہ 160 سے تجاوز کر گئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.