سیئول :جنوبی کوریا کی حکومت نے صدر لی جے میونگ کی زیرِ صدارت کابینہ کے اجلاس میں “فوجداری عدالتی قانون” میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت پراسیکیوٹرز کے براہِ راست تفتیش اور اضافی تحقیقات کے اختیارات مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کو جنوبی کوریا کے 70 سال سے زائد پرانے فوجداری عدالتی نظام میں ایک بڑی اصلاح قرار دیا جا رہا ہے۔ترمیم شدہ قانون اور متعلقہ ضوابط کے مطابق، پراسیکیوٹرز اب مقدمات کی نشاندہی، براہِ راست تفتیش، ملزمان سے پوچھ گچھ اور شواہد جمع کرنے کے اختیارات نہیں رکھیں گے۔ ان کا کردار صرف مقدمات درج کرنے، عدالت میں استغاثہ پیش کرنے اور ضرورت پڑنے پر پولیس سے مزید تفتیش کی درخواست کرنے تک محدود ہوگا۔ قانون کے تحت جنوبی کوریا کے موجودہ پراسیکیوٹر آفس کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک نیا پبلک پراسیکیوشن آفس قائم کیا جائے گا۔ تمام فوجداری مقدمات کی بنیادی تفتیش پولیس، سیرس کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی اورکارپشن انویسٹی گیشن آفس فار ہائی رینکنگ آفیشلز انجام دیں گے۔ یہ ترمیم اور متعلقہ قوانین 2 اکتوبر سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوں گے۔
Trending
- بھارتی چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کا عہدے سے متعلق اہم فیصلہ
- رشمیکا مندانا نے فلم انڈسٹری میں اپنے سفر سے متعلق اہم انکشاف کردیا
- پیٹرول سبسڈی اسکیم؛ وزیراعظم کا کم پیٹرول استعمال کرنے والوں کیلئے ایک اور اہم فیصلہ
- حکومت جلد نئی آٹو پالیسی متعارف کرائے گی، مشیر وزیراعظم
- پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی، نوٹی فکیشن جاری
- طاہر اشرفی کو دیا گیا برطانوی ایوارڈ واپس، چرچ آف پاکستان نے گلوبل پیس ایوارڈ دے دیا
- امریکا نے ایرانی حکام کو نیویارک میں لگژری شاپنگ نہ کرنے کی وارننگ دے دی
- لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
- پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں ایک ہزار 841 پوائنٹس کا اضافہ
- سونے کی فی تولہ قیمت 6900 روپے کا اضافہ ہوگیا