News Views Events
Apna Watan

جاپان کی “نئی قسم کی عسکریت پسندی” کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، چینی وزارت دفاع 

0

بیجنگ : چین کی وزارتِ دفاع کے ترجمان سینئر کرنل چھن شی نے ایک پریس کانفرنس میں حالیہ عسکری امور سے متعلق گفتگو کی ۔ آج سے 81 سال قبل 15 اگست کو جاپان نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن آج جاپان کی دائیں بازو کی قوتیں نہ صرف تاریخی حقائق کو تبدیل کرنے کی کوشش کرہی ہیں بلکہ اپنی عسکری قوت کو بھی بڑھا رہی ہیں ۔ جاپانی وزارت دفاع مالی سال 2027 کے لیے دفاعی بجٹ کی درخواست جمع کروانے والی ہے جس کی کل لاگت تقریباً 8.9 ٹریلین جاپانی ین ہے، جو ایک نئی بلند سطح ہو گی ۔ اس حوالے سے چینی وزارت دفاع کے ترجمان سینئر کرنل چھن شی نے کہا کہ ماضی میں جاپانی عسکریت پسندی نے پورے ایشیا کو آگ اور خون کے کھیل میں گھسیٹا ۔ نانجنگ قتل عام، باتان ڈیتھ مارچ، اور برما-تھائی لینڈ ڈیتھ ریلوے جیسے مظالم ایشیا اور دنیا کے لوگوں کے لیے بڑی تباہی کا باعث بنے اور جاپانی عوام کو بھی اس سے بہت نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی سچائی کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے اور انصاف اور امن کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہیے۔ ہم جاپان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے ماضی کے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرے، اپنے جرائم کا اعتراف کرے اور ان کا کفارہ ادا کرے، جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظم و نسق کی سختی سے پابندی کرے، اور “دوبارہ عسکریت پسندی ” کی خطرناک کارروائیاں بند کرے۔ انہوں نے جاپان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ غلط راستے کا انتخاب زیادہ بدترین شکست اور کڑے محاسبہ کا باعث بنے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.