News Views Events
Apna Watan

ترکیہ کا انٹرپول سے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے خلاف ریڈ نوٹس” جاری کرنے کا مطالبہ، اسرائیل کا تنازع نہ بڑھانے کا دعویٰ

0

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ترکیہ کے ساتھ تنازع کو مزید بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم وہ شام میں ترکیہ کے فوجی اڈے قائم کرنے کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔اسرائیل نے حالیہ دنوں میں شام پر متعدد حملے کیے ہیں۔ 18 تاریخ کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمال مغربی شام کے صوبہ ادلب میں ابو ال ظہور ایئر بیس پر متعدد فضائی حملے کیے۔ دوسری جانب ترکیہ کے وزیرِ انصاف آکین گورلیک نے 21 تاریخ کو کہا کہ غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد لے جانے والے بحری جہازوں کے قافلے میں اسرائیلی مسلح افواج کی مداخلت کے خلاف قانونی کارروائی کے سلسلے میں ترکیہ نے انٹرپول سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور دیگر افراد کے خلاف ریڈ نوٹس ” جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انٹرپول اپنے رکن ممالک کی درخواست پر ریڈ نوٹس” جاری کرتا ہے، تاہم اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ترکیہ اور اسرائیل دونوں انٹرپول کے رکن ممالک ہیں۔ترکیہ ایک وقت میں مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار تھا، تاہم گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران اسرائیل -فلسطین تنازع اور کرد مسئلے سمیت متعدد معاملات پر دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ نیتن یاہو حکومت کا ترکیہ کے خلاف سخت موقف علاقائی کشیدگی کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول میں ریڈ نوٹس” جاری کرنے کا مطالبہ، ایران اور شام سمیت مختلف علاقائی معاملات پر اسرائیل کی جانب سے ترکیہ پر ہونے والی تنقید کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام محض ایک اشارہ ہے اور نیتن یاہو کے ایسے ممالک کا دورہ کرنے کا امکان بھی کم ہے جہاں انہیں گرفتار کرکے ترکیہ کے حوالے کیے جانے کا خدشہ موجود ہو۔ ترکیہ اور اسرائیل دونوں خطے کے بااثر ممالک ہیں، جبکہ امریکہ بظاہر دونوں کے درمیان کسی بڑے تنازع سے گریز چاہتا ہے۔ توقع ہے کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی بڑی حد تک سفارتی اور عوامی سطح تک محدود رہے گی۔ ترکیہ نیٹو کا رکن ملک ہے، اس لیے اسرائیل کے لیے کسی نیٹو رکن ملک کے ساتھ براہِ راست فوجی تنازع میں ملوث ہونے کا امکان بھی کم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.