بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس کانفرنس میں چینی اے آئی کمپنیوں پر امریکی ٹیکنالوجی “نقل” کرنے کے امریکی الزامات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اعلیٰ معیار کی سائنسی و تکنیکی خود انحصاری اور خود کو مضبوط بنانے کی کامیابی ہے۔ چین ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ تمام فریقوں کو تعاون مزید مضبوط کرنا چاہیے، مصنوعی ذہانت کی کھلی، جامع، سب کے لیے قابل رسائی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے مفید ترقی کو فروغ دینا چاہیے اور اسے پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا دونوں ممالک کے سربراہانِ مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرے گا اور چین پر بے بنیاد الزام تراشی اور اسے بدنام کرنے سے گریز کرے گا۔ماؤ ننگ نے کہا کہ چین اور امریکا دونوں اے آئی کے شعبے میں بڑی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کو باہمی تعاون مزید مضبوط کرنا چاہیے۔
Trending
- ملک بھر کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی گئی، صارفین پر 12 ارب سے زائد اضافی بوجھ پڑے گا
- امریکا چین پر بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرے، چینی وزارتِ خارجہ
- مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی بھلائی کی راہ پر برقراررکھیں، چینی میڈیا
- ملک بھر کے اساتذہ نے تدریس کے شعبے میں بھرپور خدمات انجام دی ہیں، چینی صدر
- چینی خلا بازوں کی جانب سے پانچویں اسپیس لیکچر کا انعقاد
- چین میں خدمات کی تجارت کا نیا ڈھانچہ تیزی سے تشکیل پا رہا ہے، رپورٹ
- اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے دن منفی، آج 698 پوائنٹس کی کمی
- سعودیہ، امارات، امریکا سے پاکستانیوں نے کتنی رقم بھیجی؟
- چین اور برطانیہ جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، چینی صدر
- چین اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو مستقل طور پر آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، چینی نائب صدر