News Views Events
Apna Watan

قومی اتفاقِ رائے، مضبوط صوبے اور بااختیار عوام ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں: چوہدری شجاعت حسین

نئے صوبوں کا فیصلہ سیاسی نعروں کے بجائے قومی مفاد اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھ کر کیا جائے، چوہدری شجاعت حسین

0

 

 

چوہدری شجاعت حسین سے مسلم لیگ سندھ کے نومنتخب صدر آصف جمال قریشی اور جنرل سیکرٹری آفاق احمد خٹک کی ملاقات

وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین بھی موجود تھے، نومنتخب قیادت کو تقرری کے نوٹیفکیشن پیش کیے گئے

لاہور: پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین سے مسلم لیگ سندھ کے نومنتخب صدر آصف جمال قریشی اور جنرل سیکرٹری آفاق احمد خٹک نے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ چوہدری سالک حسین بھی اس موقع پر موجود تھےچوہدری شجاعت حسین نے آصف جمال قریشی اور آفاق احمد خٹک کو بلامقابلہ منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور انہیں سندھ مسلم لیگ کی نئی ذمہ داریوں کے تقرری کے نوٹیفکیشن بھی پیش کیے۔
چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ سندھ کی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور محرومیوں کے خاتمے میں مسلم لیگ کا تاریخی کردار ہے۔ نومنتخب سندھ قیادت پرانے اور نئے کارکنوں کو ساتھ لے کر چلے اور جماعت کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ قومی اتفاقِ رائے اور باہمی مشاورت کے ذریعے ہی ملک کو درپیش مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکتا ہے۔ عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی، بنیادی سہولیات اور فوری انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی محاذ آرائی یا جماعتی مفادات کا نہیں بلکہ قومی مشاورت کا موضوع ہے۔ نئے صوبوں کے بارے میں فیصلہ سیاسی مفادات یا وقتی نعروں کے بجائے قومی مفاد اور عوامی سہولت کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو کس انتظامی نظام سے زیادہ سہولت، بہتر حکمرانی اور فوری انصاف مل سکتا ہے۔ مؤثر، بااختیار اور مضبوط انتظامی یونٹس بھی انتظامی مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرکے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکتے ہیں۔ قومی معاملات کو اتفاقِ رائے سے حل کرنا ہوگا، سیاسی جماعتیں صف بندی اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔انہوں نے کہا کہ قومی معاملات کو سیاسی انا سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ ملک کو سیاسی استحکام، بہتر طرز حکمرانی اور مؤثر انتظامی نظام کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ سندھ کے کارکنوں اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے نئی قیادت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ قومی معاملات کو سیاسی انا سے بالاتر ہو کر دیکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مضبوط صوبے، بااختیار ادارے اور مطمئن عوام ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔ مسلم لیگ سندھ کے کارکنوں کو منظم اور متحرک کرنے کے لیے نومنتخب قیادت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔
مسلم لیگ سندھ کے نومنتخب صدر آصف جمال قریشی نے کہا کہ سندھ مسلم لیگ کو مضبوط اور مؤثر سیاسی قوت بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ قیادت نے جو اعتماد کیا ہے اسے اپنی کارکردگی سے ثابت کرنے کی کوشش کریں گے اور کارکنوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں گے نومنتخب جنرل سیکرٹری آفاق احمد خٹک نے کہا کہ قیادت اور کارکنوں کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ سندھ بھر میں پارٹی تنظیم کو فعال، متحرک اور مضبوط بنانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔ملاقات میں سندھ کی سیاسی صورتحال، مسلم لیگ کی تنظیمی سرگرمیوں، کارکنوں کے مسائل، صوبے کی ترقی، عوامی محرومیوں کے خاتمے اور اہم قومی و سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.