News Views Events
Apna Watan

چین کی الیکٹرک گاڑیاں:  ملک سے  عالمی منڈی تک

0

 

 

اعتصام الحق

دنیا میں جب بھی تیل کی قیمت بڑھتی ہے یا توانائی کی فراہمی پر کوئی نیا بحران منڈلاتا ہے تو ایک سوال دوبارہ اہم ہو جاتا ہے: سڑکوں پر چلنے والی کروڑوں گاڑیوں کا انحصار کب تک پٹرول اور ڈیزل پر رہے گا؟ 2026 کا موجودہ توانائی بحران بھی اسی سوال کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں الیکٹرک گاڑی محض ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ توانائی کے استعمال، نقل و حمل اور مستقبل کی صنعتی معیشت کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

 

اس تبدیلی میں چین کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ چینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین میں نئی توانائی کی گاڑیوں، یعنی این ای ویز ، کی پیداوار 1 کروڑ 66 لاکھ سے زیادہ جبکہ فروخت تقریباً 1 کروڑ 65 لاکھ یونٹس رہی۔ پیداوار میں سالانہ 29 فیصد اور فروخت میں 28.2 فیصد اضافہ ہوا۔ اس طرح چین مسلسل گیارہویں سال دنیا کی سب سے بڑی این ای وی مارکیٹ بنا رہا۔

 

2026 میں بھی یہ رفتار برقرار ہے۔ جنوری سے جون تک چین میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی پیداوار 74 لاکھ 38 ہزار اور فروخت 74 لاکھ 46 ہزار یونٹس تک پہنچی ۔ ان میں خالص بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 67 فیصد تھا۔جولائی میں تو ایک نئی حد عبور ہوئی۔ چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کے مطابق جولائی  میں این ای ویز  کا حصہ  چین میں نئی گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں 60 فیصد سے زیادہ رہا ۔ جنوری سے جولائی تک ای ای ویز  کی فروخت 90 لاکھ یونٹس تک پہنچی ، جب کہ اسی عرصے میں برآمدات 29 لاکھ 10 ہزار یونٹس رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 1.2 گنا زیادہ ہیں۔

 

یہ اعداد اس لیے بھی اہم ہیں کہ چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی کہانی صرف مقامی صارفین تک محدود نہیں رہی۔ 2025 میں چین نے 26 لاکھ 15 ہزار این ای ویز برآمد کیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 103.7 فیصد زیادہ تھیں۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں این  ای وی برآمدات مزید بڑھ کر 23 لاکھ 55 ہزار یونٹس تک پہنچیں اور   سالانہ بنیاد پر اضافہ 120 فیصد رہا۔

 

یعنی چینی الیکٹرک گاڑی اب صرف چین کی سڑکوں پر نظر آنے والی گاڑی نہیں، بلکہ ایشیا، یورپ، لاطینی امریکا، مشرق وسطیٰ اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بھی تیزی سے داخل ہو رہی ہے۔اس عالمی تبدیلی کی ایک بڑی وجہ قیمت ہے۔ چین میں بڑے پیمانے پر پیداوار، بیٹریوں کی مکمل سپلائی چین اور مختلف قیمتوں میں دستیاب ماڈلز نے الیکٹرک گاڑی کو بہت سے ممالک کے صارفین کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ قابل رسائی بنا دیا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت 2 کروڑ سے تجاوز کر گئی اور ہر چار نئی گاڑیوں میں تقریباً ایک الیکٹرک تھی۔ چین کے علاوہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بھی چینی ساختہ گاڑیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

 

تاہم چین کی اپنی مارکیٹ میں ایک دلچسپ تبدیلی بھی سامنے آ رہی ہے۔ Extended-Range Electric Vehicle یا EREV،  نے جس میں گاڑی پہیوں کو برقی موٹر سے چلاتی ہے جبکہ انجن بیٹری کے لیے بجلی پیدا کرتا ہے، کچھ عرصہ پہلے صارفین کو دو حل فراہم کیے ۔ شہر میں بجلی پر خاموش ڈرائیونگ اور طویل سفر میں پٹرول کا سہارا۔

لیکن 2026 میں کم قیمت والی ای آر ای ویز کے لیے حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ بیٹریوں کی قیمت میں کمی، تیز رفتار چارجنگ میں بہتری اور چین میں چارجنگ نیٹ ورک کی تیز توسیع نے خالص الیکٹرک گاڑیوں کی کشش بڑھا دی ہے۔

 

چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق جولائی 2026 کے اختتام تک ملک میں ای وی چارجنگ پوائنٹس کی تعداد 2 کروڑ 36 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ چکی تھی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 41.9 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں 50 لاکھ 99 ہزار عوامی اور ایک کروڑ 85 لاکھ 80 ہزار نجی چارجنگ سہولتیں شامل تھیں۔یہ بنیادی ڈھانچہ دراصل الیکٹرک گاڑی کے مستقبل کی ایک اہم شرط ہے۔ اگر گاڑی خریدنا آسان ہو لیکن اسے چارج کرنا مشکل ہو تو صارف اب بھی پٹرول یا ہائبرڈ کا انتخاب کرے گا۔ چین نے اسی مسئلے کو بڑے پیمانے پر چارجنگ نیٹ ورک کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

 

دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی یہی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت 20 ملین سے تجاوز کر گئی۔ 2026 میں یہ تعداد تقریباً 23 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یورپ، جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکا اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بھی فروخت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

 

موجودہ توانائی بحران نے اس رجحان کو ایک نیا زاویہ دیا ہے۔ جب تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو پٹرول سے چلنے والی گاڑی کا روزمرہ خرچ براہ راست متاثر ہوتا ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑی کے صارف کے لیے توانائی کا ذریعہ نسبتاً متنوع ہو سکتا ہے۔ بجلی مقامی شمسی، ہوا، پن بجلی، جوہری توانائی یا دوسرے ذرائع سے پیدا کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے الیکٹرک ٹرانسپورٹ صرف ماحول دوست منصوبہ نہیں بلکہ کئی ممالک کے لیے توانائی کے تحفظ کا بھی ذریعہ بن رہی ہے۔

 

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں دنیا کی الیکٹرک گاڑیوں کے بیڑے نے روزانہ تقریباً 17 لاکھ بیرل تیل کے استعمال سے بچاؤ میں کردار ادا کیا۔ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً نصف استعمال کرتی ہیں، اس لیے اگر ان میں بجلی کا حصہ بڑھتا ہے تو تیل کی عالمی طلب اور درآمدی ایندھن پر انحصار بھی متاثر ہوتا ہے۔

 

چین کے لیے اس تبدیلی کی اہمیت دوہری ہے۔ ایک طرف وہ اپنی بہت بڑی داخلی مارکیٹ میں پٹرول سے بجلی کی طرف منتقلی کر رہا ہے، دوسری طرف اس منتقلی سے پیدا ہونے والی ٹیکنالوجی، بیٹری، موٹر، چارجنگ اور سافٹ ویئر کی صنعت کو عالمی منڈی تک پہنچا رہا ہے۔یہاں اصل مقابلہ صرف گاڑی فروخت کرنے کا نہیں رہا۔ چین اب مکمل صنعتی نظام برآمد کر رہا ہے۔ بیٹری سے لے کر چارجنگ اسٹیشن، ذہین کاک پٹ، ڈرائیونگ سسٹم اور مقامی پیداوار تک چینی کمپنیاں بیرون ملک اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں۔ چین اب صرف گاڑیاں برآمد کرنے سے آگے بڑھ کر مختلف ممالک میں مقامی پیداوار اور پورے صنعتی ماحولیاتی نظام میں تعاون کی طرف بڑھ رہا ہے۔

 

اس تبدیلی کے باوجود چیلنجز بھی کم نہیں۔ مختلف ممالک میں چارجنگ انفراسٹرکچر، بجلی کی قیمت، درآمدی پالیسیاں، مقامی پیداوار کے تقاضے اور صارفین کی قوت خرید مختلف ہے۔ اسی طرح بیٹری کی عمر، ری سائیکلنگ اور بجلی کی پیداوار کا ماخذ بھی الیکٹرک گاڑی کے حقیقی ماحولیاتی فائدے کو متاثر کرتا ہے۔لیکن مجموعی سمت واضح دکھائی دیتی ہے۔ چین میں جولائی 2026 میں نئی گاڑیوں کی فروخت میں این ای ویز کا 60 فیصد سے تجاوز کر جانا محض ایک صنعتی اعداد و شمار نہیں بلکہ صارفین کے رویے میں آنے والی بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ دوسری طرف چین کی بڑھتی ہوئی برآمدات بتا رہی ہیں کہ یہ تبدیلی اب ملکی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔

 

شاید مستقبل کی گاڑی صرف پٹرول، بجلی یا ہائبرڈ میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں ہوگی۔ صارف اپنی ضرورت کے مطابق مختلف ٹیکنالوجیز چاہے گا۔ کہیں خالص بیٹری الیکٹرک گاڑی بہتر ہوگی، کہیں این ای وی یا پلگ اِن ہائبرڈ، جبکہ طویل فاصلے اور بھاری ٹرانسپورٹ کے لیے دوسری ٹیکنالوجیز بھی اپنا مقام برقرار رکھیں گی۔مگر توانائی کے موجودہ بحران نے ایک حقیقت ضرور واضح کر دی ہے: گاڑی اب صرف سفر کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ توانائی کے مستقبل کا بھی حصہ بن چکی ہے۔ اور اس مستقبل کی دوڑ میں چین اس وقت صرف ایک بڑا  ملک نہیں بلکہ عالمی سطح پر سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.