اعتصام الحق
ایک صدی سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے چین میں ریلوے کا سفر محض چند پٹریوں اور بھاپ کے انجنوں سے شروع ہوا تھا۔ آج یہی ملک دنیا کا سب سے بڑا ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ چین کی ریلوے کہانی صرف رفتار بڑھانے کی داستان نہیں، بلکہ یہ انجینئرنگ، صنعتی ترقی، علاقائی رابطے، سبز ٹرانسپورٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کی کہانی ہے۔
اس سفر کی ایک علامتی ابتدا بیجنگ-ژانگ جیاکو ریلوے سے ہوتی ہے۔ 1909 میں مکمل ہونے والی یہ چین کی پہلی خود ڈیزائن اور خود تعمیر کردہ ریلوے تھی، جس کی تعمیر کی قیادت چینی انجینئر ژانگ تیان یو نے کی۔ اس دور میں بھاپ سے چلنے والی ٹرینوں کی رفتار تقریباً 35 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ آج بھی بیجنگ کے قریب چنگ لونگ چیاؤ اسٹیشن اس تاریخی دور کی یادگار کے طور پر موجود ہے۔
ایک صدی کے دوران چین کا روایتی ریلوے نظام مسلسل پھیلتا اور جدید ہوتا گیا۔ برقی ریل، ڈیزل اور پھر جدید الیکٹرک ٹرینوں نے پرانے بھاپ کے انجنوں کی جگہ لی۔ 1949 کے بعد صنعتی اور اقتصادی ترقی کے ساتھ ریلوے کو قومی ترقی کے بنیادی ڈھانچے کا درجہ ملا۔ پہاڑوں، صحراؤں، برفانی علاقوں اور دور دراز خطوں تک ریلوے لائنیں پہنچائی گئیں۔ آج چین کا روایتی اور تیز رفتار ریلوے نظام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ایسا وسیع نیٹ ورک بن چکا ہے جو مسافروں کے ساتھ ساتھ کوئلہ، اناج، معدنیات، صنعتی مصنوعات اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی نقل و حمل میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
چین کے جدید ریلوے انقلاب کا سب سے نمایاں مرحلہ ہائی اسپیڈ ریل کا آغاز ہے۔ 2008 میں بیجنگ-تھیان جن انٹر سٹی ہائی اسپیڈ ریلوے کے آغاز نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس کے بعد بیجنگ-شنگھائی، بیجنگ-گوانگ ژو، شنگھائی-ہانگ ژو، گوانگ ژو-شینزن -ہانگ کانگ اور متعدد دیگر لائنیں وجود میں آئیں۔
2024 کے اختتام تک چین میں ہائی اسپیڈ ریلوے کی آپریشنل لمبائی تقریباً 48 ہزار کلومیٹر تھی۔ صرف ایک سال بعد، 2025 کے اختتام تک یہ بڑھ کر 50,400 کلومیٹر ہو گئی، جبکہ پورے ریلوے نیٹ ورک کی آپریشنل لمبائی 165,000 کلومیٹر تک پہنچ گئی۔ 2025 میں چین نے 3,109 کلومیٹر نئی ریلوے لائنیں آپریشنل کیں، جن میں 2,862 کلومیٹر ہائی اسپیڈ ریل تھی۔
یہ نیٹ ورک صرف بڑا ہی نہیں بلکہ انتہائی مصروف بھی ہے۔ 2025 میں چینی ریلوے نے تقریباً 4.59 ارب مسافر سفروں کو خدمات فراہم کیں، جبکہ مال برداری 5.27 ارب ٹن سے تجاوز کر گئی۔ ہائی اسپیڈ ریل نے 2024 ہی میں تقریباً 3.3 ارب مسافر سفر کیے، جو ملک کے مجموعی ریلوے مسافر سفروں کا تقریباً 76 فیصد تھا۔
اس پورے نظام کا ایک اہم ستون فوشِنگ ٹرین ہے۔ CR400 سیریز عام طور پر 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے اور چین کے بیشتر بڑے شہروں کو تیز رفتار سفری رابطے سے جوڑتی ہے۔ لیکن چین اب 350 کلومیٹر فی گھنٹہ پر رکنے کے لیے تیار نہیں۔
دسمبر 2024 میں چین نے CR450 کے دو پروٹوٹائپ متعارف کرائے۔ یہ ٹرین تجارتی آپریشن میں 400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے لیے تیار کی جا رہی ہے، جبکہ تجربات میں اس نے 450 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار حاصل کی۔ایک رپورٹ کے مطابق ایک آزمائشی مرحلے میں رفتار 453 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچی۔
CR450 میں صرف طاقتور انجن نہیں لگایا گیا بلکہ پوری ٹرین کو نئی رفتار کے مطابق دوبارہ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا وزن کم کیا گیا، ہوا کے دباؤ کو گھٹانے کے لیے ایروڈائنامک ڈیزائن بہتر بنایا گیا اور آپریشنل مزاحمت میں تقریباً 22 فیصد کمی کا ہدف حاصل کیا گیا۔ جدید مستقل مقناطیسی ٹریکشن، بہتر بوگی، جدید بریکنگ سسٹم اور ہزاروں سینسرز ٹرین کے اہم نظاموں کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔
رفتار بڑھانے کے ساتھ سب سے بڑا چیلنج رکنے کا ہے۔ CR450 کے بریکنگ سسٹم کو اس قابل بنایا جا رہا ہے کہ 400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرین تقریباً 112 سیکنڈ میں مکمل طور پر رک سکے۔ اس کے ایک اہم بریک ہب کی تیاری میں صرف 0.005 ملی میٹر تک کی انتہائی باریک درستگی درکار ہے۔
یوں چین کی نئی جنریشن کی ہائی اسپیڈ ریل میں رفتار کے ساتھ حفاظت، توانائی کی بچت، آرام، مصنوعی ذہانت اور خودکار نگرانی بھی شامل ہو رہی ہے۔ ATO یعنی Autonomous Train Operation جیسی ٹیکنالوجیز ٹرین کے آپریشن کو مزید ذہین بنانے کی سمت اشارہ کرتی ہیں۔
چین کا ریلوے نظام اب صرف ملک کے اندر تک محدود نہیں رہا۔ اس کی ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور تعمیراتی صلاحیتیں مختلف ممالک کے ریلوے منصوبوں میں بھی نظر آتی ہیں۔
انڈونیشیا میں جکارتہ-بانڈونگ ہائی اسپیڈ ریلوے چین کے ہائی اسپیڈ ریل ماڈل کی سب سے نمایاں بین الاقوامی مثال ہے۔ 142.3 کلومیٹر طویل یہ لائن 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ڈیزائن رفتار کے ساتھ جکارتہ اور بانڈونگ کے درمیان سفر کا وقت تین گھنٹے سے کم کرکے تقریباً 46 منٹ کرتی ہے۔ جون 2025 تک یہ دس ملین سے زیادہ مسافروں کو سفر کرا چکی تھی۔ یہ چین سے باہر پہلی ہائی اسپیڈ ریلوے ہے جس میں چینی ٹیکنالوجی اور صنعتی نظام کو مکمل طور پر استعمال کیا گیا۔
جنوب مشرقی ایشیا میں چین-لاؤس ریلوے نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ دسمبر 2021 میں شروع ہونے والی اس لائن نے 2025 میں 60 ملین مسافر سفروں کا سنگ میل عبور کیا، جبکہ کنمنگ اور وینتیان کے درمیان بین الاقوامی خدمات اپریل 2023 میں شروع ہوئیں۔ یہ لائن چین کو جنوب مشرقی ایشیا کے ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے میں اہم کڑی بن رہی ہے۔
یورپ میں بلغراد-نووی ساد ہائی اسپیڈ ریلوے چین کے تعاون سے تعمیر ہونے والے منصوبوں کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ ہنگری-سربیا ریلوے کا حصہ ہے، جس کا مقصد بلغراد اور بوڈاپیسٹ کے درمیان سفر کے وقت کو تقریباً آٹھ گھنٹے سے کم کرکے تین گھنٹے کے قریب لانا ہے۔ افریقہ میں ممباسا-نیروبی ریلوے اور ادیس ابابا-جبوتی ریلوے جیسے منصوبے چین کے وسیع تر ریلوے تعاون کی مثالیں ہیں۔ چینی کمپنیوں نے گزشتہ تقریباً 25 برسوں میں افریقہ میں 10 ہزار کلومیٹر سے زیادہ ریلوے لائنوں کی تعمیر یا اپ گریڈنگ میں مدد کی ہے۔ اسی طرح چین-یورپ مال بردار ٹرینیں ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک نیا زمینی تجارتی راستہ بن چکی ہیں۔
چین کے ریلوے انقلاب کا اگلا مرحلہ صرف نئی پٹریاں بچھانا نہیں۔ مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو تیز، محفوظ، ذہین، کم توانائی استعمال کرنے والا اور ماحول دوست ہو۔ 2026 میں بھی ریلوے انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری جاری ہے؛ پہلے سات ماہ میں ریلوے کے مقررہ اثاثوں میں سرمایہ کاری 440.6 ارب یوآن تک پہنچ گئی۔ چین نے 2030 تک مجموعی آپریشنل ریلوے نیٹ ورک کو تقریباً 180 ہزار کلومیٹر اور ہائی اسپیڈ ریل کو تقریباً 60 ہزار کلومیٹر تک پہنچانے کا ہدف رکھا ہے۔
یوں چنگ لونگ چیاؤ کی 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی بھاپ سے چلنے والی ٹرین سے CR450 کی 450 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ آزمائشی رفتار تک کا سفر صرف اعداد کا فرق نہیں۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ ایک صدی میں ریلوے کس طرح ایک ملک کی معاشی ترقی، شہری نقل و حرکت، علاقائی رابطے اور عالمی تعاون کا بنیادی ستون بن سکتی ہے۔ چین کی پٹریاں اب صرف شہروں کو نہیں جوڑ رہیں؛ وہ ٹیکنالوجی، تجارت اور مستقبل کی نقل و حرکت کے نئے راستے بھی تشکیل دے رہی ہیں۔