بیجنگ(نیوزڈیسک)یکم دسمبر 2023 کو چین نے فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، اسپین اور ملائیشیا کے لیے یکطرفہ ویزا فری انٹری پالیسی کا آغاز کیا تھا۔ اس پالیسی سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملا بلکہ چینی اور غیر ملکی کاروباری اداروں کے مابین تبادلوں اور تعاون میں بھی بہت سہولت ملی ہے۔
شین زن باؤآن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر رات گئِے بھی بین الاقوامی آمد کےہال میں مسافروں کی بھیڑ بھاڑ رہی . اس ویزا فری پالیسی سے فائدہ اٹھانے والے مسافر بہت سہولت کے ساتھ چین میں داخل ہو رہے ہیں۔
متعلقہ اہل کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک میں سال کے اختتام کی تعطیلات ختم ہونے کے ساتھ ہی نئے سال کے شروع میں آمدو رفت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔
ویزا فری پالیسی کے آزمائشی نفاذ سے بلاشبہ چینی اور غیر ملکی کاروباری اداروں کو ایک نیا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ بہت سی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اب ان کے صارفین میٹنگز کے لیے باآسانی چین آسکتے ہیں اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھیوں کے لیے چین آکر مشاہدہ کرنا اور کام کرنا زیادہ آسان ہوگیا ہے۔
Trending
- چائنا میڈیا گروپ کی منتخب فلموں اور پروگراموں کی نمائش کا کرغزستان میں آغاز
- چینی سنیما ، مقبولیت صرف باکس آفس تک محدود نہیں، چینی میڈیا
- چینی انسان نما روبوٹس اپنے “ارتقاء” کی رفتار تیز کر رہے ہیں، چینی میڈیا
- چینی صدر شنگھائی تعاون تنظم کے سربراہی اجلاس میں شرکت اور کرغزستان اور مصر کا سرکاری دورہ کریں گے، چینی وزارت خارجہ
- چین کے شی زانگ خوداختیار علاقے میں مٹی کے تودے گرنے کا واقعہ، چینی صدر کی اہم ہدایات
- چین کا نئی نسل کے مواصلاتی اور کمپیوٹنگ نیٹ ورکس کی منصوبہ بندی و تعمیر میں تیزی لانے کا اعلان
- چین۔امریکہ 1.5 ٹریک ڈائیلاگ” کا بیجنگ میں انعقاد
- فرخ خان کا پمز سانحے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس
- چین،دیہی علاقوں میں بچوں کے لیےاے آئی میڈیکل سسٹم کا نفاذ
- پمز سانحہ، نومولود بچوں کی ہلاکت انتہائی دلخراش ہے، فوزیہ ناز