بیجنگ(نیوزڈیسک)یکم دسمبر 2023 کو چین نے فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، اسپین اور ملائیشیا کے لیے یکطرفہ ویزا فری انٹری پالیسی کا آغاز کیا تھا۔ اس پالیسی سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملا بلکہ چینی اور غیر ملکی کاروباری اداروں کے مابین تبادلوں اور تعاون میں بھی بہت سہولت ملی ہے۔
شین زن باؤآن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر رات گئِے بھی بین الاقوامی آمد کےہال میں مسافروں کی بھیڑ بھاڑ رہی . اس ویزا فری پالیسی سے فائدہ اٹھانے والے مسافر بہت سہولت کے ساتھ چین میں داخل ہو رہے ہیں۔
متعلقہ اہل کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک میں سال کے اختتام کی تعطیلات ختم ہونے کے ساتھ ہی نئے سال کے شروع میں آمدو رفت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔
ویزا فری پالیسی کے آزمائشی نفاذ سے بلاشبہ چینی اور غیر ملکی کاروباری اداروں کو ایک نیا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ بہت سی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اب ان کے صارفین میٹنگز کے لیے باآسانی چین آسکتے ہیں اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھیوں کے لیے چین آکر مشاہدہ کرنا اور کام کرنا زیادہ آسان ہوگیا ہے۔
Trending
- اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار کی سطح عبور کرگیا
- کراچی میں ڈاکوؤں نے امام مسجد کو بھی نہ بخشا، نئی موٹر سائیکل چھین کر فرار
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل برقرار
- دودھ کی قیمتوں، ملاوٹ اور دکانیں سیل کرنے پر عدالت کے اہم ریمارکس
- چوہدری شجاعت حسین کی رہائشگاہ پر پارٹی رہنماؤں کی بیٹھک، انتخابی حکمت عملی پر غور
- ایران اور وسطی ایشیاء کے ساتھ تجارتی روابط میں اہم سنگ میل، گبد بارڈر ٹرمینل فعال
- پنجاب؛ بیوروکریسی اور حکومتی ارکان میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئی
- وزیر خزانہ کی امریکی وزیر تجارت سے ملاقات، اقتصادی شراکت داری مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال
- کوئٹہ؛ پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس پر فائرنگ، اہلکار شہید
- پی ایس ایل میں شریک ملکی اور غیر ملکی کرکٹرز کی بھرپور سیر و تفریح