بیجنگ(نیوزڈیسک)چین کے صدر شی جن پھنگ نے امریکی ریاست آئیووا سے تعلق رکھنے والی ایک دوست سارہ ڈی لینڈ کے نام جوابی خط بھیجا ۔انہوں نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ 45 سال قبل چین اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے تعلقات اورتعاون کے ثمرات سے دونوں ممالک اور دنیا کو فائدہ ہوا ہے۔صدر شی نے کہا کہ چین امریکہ تعلقات میں حاصل شدہ کامیابیوں کی بنیاد عوام کی مشترکہ کوششوں پر ہوتی ہے اور چین امریکہ تعلقات کی مسلسل ترقی کے لئے دونوں ممالک کے عوام پر انحصار کرنےکی زیادہ ضرورت ہے۔
صدر شی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات کا مستقبل نوجوانوں پر منحصر ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے پانچ سالوں میں 50,000 امریکی نوجوانوں کو تبادلے اور مطالعے کی غرض سے چین مدعو کیا جائے گا ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ امریکی نوجوان چین کا دورہ کر سکیں، اپنی آنکھوں سے چین کا مشاہدہ کر سکیں ، اپنے کانوں سے چین کی بات سن سکیں اور انہیں ایک حقیقی، سہ جہتی اور جامع چین کا تجربہ حاصل ہو ۔
شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ چین اور امریکہ دنیا کے سب سے بڑے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک ہیں اور کرہ ارض کے مستقبل اور تقدیر کے لئے ان کے تعلقات کو مستحکم اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ چین امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی مستحکم، صحت مند اور پائیدار ترقی کے فروغ اور مشترکہ طور پر ایک کھلی، جامع، صاف اور خوبصورت دنیا کی تعمیر کے لئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے ۔
Trending
- حکومت بلوچستان کا سرکاری دفاتر میں جمعہ کا دن بطور ورکنگ ڈے منانے کا فیصلہ
- پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ اسکواڈ سے 7 کھلاڑیوں کو ریلیز کر دیا
- راج کمار راؤ مسٹر پرفیکشنسٹ کے راہ پر چل پڑے؛ فلم کیلیے وزن بڑھایا اور پھر کم بھی کیا
- آئی ٹی و ٹیلی کام شعبے کا جی ٹو جی براہ راست ٹھیکوں کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ
- چیف جسٹس پاکستان نے بلوچستان ہائیکورٹ میں نئے سہولت مرکز کا افتتاح کر دیا
- اسپانٹک چوٹی سر کرنے والی ڈاکٹر اسماء مشتاق کی لاش مل گئی
- بھارت کی خوبرو اداکارہ کی نازیبا ویڈیو وائرل؛ شالنی پانڈے کا ردعمل سامنے آگیا
- سونا سستا ہوگیا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں چاندی مہنگی
- ثالثی عدالت کا بھارت کو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری، پن بجلی منصوبوں پر کام روکنے کا حکم
- مانسہرہ: سرن ویلی کی ساڑھے تیرہ ہزار فٹ بلند چوٹی سے واپسی پر غیرملکی سیاح لا پتہ