بلاگ/تجزیہ

برف سے جڑی چین کی معیشت

اعتصام الحق

چین میں سردیوں کا موسم اب محض برف باری، یخ بستہ ہواؤں اور برف سے ڈھکے پہاڑوں کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ معاشی سرگرمیوں کے ایک وسیع سلسلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اسکیئنگ، آئس اسکیٹنگ، برف کے مجسموں کی نمائش، سیاحتی میلوں اور تفریحی مراکز سے لے کر ہوٹلوں، ریستورانوں، ٹرانسپورٹ اور کھیلوں کا سامان تیار کرنے والی صنعت تک، برف سے جڑی سرگرمیاں ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ چین نے سرد موسم کو ایک ایسے موقع میں بدلنے کی کوشش کی ہے جس سے سیاحت کو فروغ ملے، مقامی کاروبار ترقی کریں اور روزگار کے نئے راستے کھلیں۔

اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے چین کی برفانی معیشت کے بڑھتے ہوئے حجم پر نظر ڈالنا کافی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024-2025 کے برفانی موسم میں تقریباً 29 کروڑ 20 لاکھ افراد نے برف اور برفانی کھیلوں سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیا، جبکہ ان سرگرمیوں پر صارفین کے اخراجات 1,875 ارب یوآن سے تجاوز کر گئے۔ اسی عرصے میں چین کی برفانی کھیلوں کی صنعت کی مجموعی مالیت تقریباً 970 ارب یوآن رہی ۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ  برف سے جڑی یہ سرگرمیاں اب چند مخصوص مقامات یا پیشہ ور کھلاڑیوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک بڑی کنزیومر  مارکیٹ کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔

اس شعبے کی ترقی میں 2022 کے بیجنگ سرمائی اولمپکس نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کھیلوں نے چین میں  آئیس اسپورٹس کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، تربیتی مراکز کی بہتری اور عوامی دلچسپی میں اضافے کو تقویت دی۔ اس کے بعد برف سے جڑی معیشت کو وسعت دینے کے لیے مزید پالیسی اقدامات کیے گئے۔ نومبر 2024 میں جاری ہونے والی رہنما پالیسی کے تحت چین نے ہدف مقرر کیا کہ اس شعبے کا حجم 2027 تک 1.2 ٹریلین یوآن اور 2030 تک 1.5 ٹریلین یوآن تک پہنچایا جائے۔ اس منصوبے میں سیاحت کے نئے مواقع، کھیلوں کی سہولتوں، صنعتی پیداوار اور متعلقہ خدمات کی ترقی شامل ہے۔

چین کے شمال مشرقی صوبے ہیلونگ جیانگ کا دارالحکومت ہاربن اس معاشی تبدیلی کی نمایاں مثال ہے۔ شدید سردی کے باعث مشہور یہ شہر اب برفانی سیاحت کے بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کا آئس اینڈ سنو  سٹی برف سے بنے دیوہیکل مجسموں، رنگ برنگی روشنیوں اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ہاربن آنے والے سیاح صرف ٹکٹ خرید کر واپس نہیں جاتے، بلکہ ہوٹلوں میں قیام، مقامی کھانوں، خریداری اور سفری سہولتوں پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی مختلف کاروباروں تک پہنچتی ہے۔ 2024 میں ہیلونگ جیانگ کی اس معیشت کا حجم 266.17 ارب یوآن تک پہنچا ، جس میں سیاحت کا حصہ 182.33 ارب یوآن تھا۔

اس طرح کی سیاحت کی یہی خصوصیت اسے مقامی ترقی کے لیے اہم بناتی ہے۔ ہوٹلوں اور بڑے تفریحی مراکز کے علاوہ چھوٹے دکاندار، دست کار، مقامی کھانے فروخت کرنے والے، ٹور گائیڈز اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد بھی اس سرگرمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ برف کے مجسمے، روایتی تہوار، مقامی ثقافت اور علاقائی کھانے سیاحوں کے لیے ایک مکمل یاد گا ر  تجربہ  فراہم  کرتے ہیں۔ یوں کسی علاقے کی جغرافیائی خصوصیت اس کی معاشی پہچان میں بدل جاتی ہے۔

یہ رجحان ہاربن تک محدود نہیں۔ سنکیانگ کے التائے خطے میں قدرتی برف اور بلند پہاڑ اسکیئنگ کے شوقین افراد کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، جبکہ جیلن صوبے میں چانگ  ہائی پہاڑ بھی  سیاحت کے اہم مراکز میں شامل ہیں۔ ان علاقوں میں اسکی ریزورٹس اور متعلقہ سہولتوں کی ترقی سے مقامی معیشت کو نئی سرگرمی مل رہی ہے۔ چین کی کوشش ہے کہ مختلف خطے اپنی قدرتی خصوصیات کے مطابق اس صنعت میں حصہ لیں، تاکہ معاشی مواقع چند شہروں تک محدود نہ رہیں۔

برفانی کھیلوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے چین نے ان ڈور اسکیئنگ مراکز پر بھی توجہ دی ہے۔ جنوبی چین جیسے نسبتاً گرم علاقوں میں مصنوعی برف کے ذریعے ایسے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں لوگ سال کے مختلف حصوں میں اسکیئنگ کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ اپریل 2025 تک چین میں عوام کے لیے کھلے اسکی ریزورٹس کی تعداد 865 تھی، جن میں 79 ان ڈور مراکز شامل تھے۔ ان ڈور مراکز کی تعداد میں گزشتہ برفانی موسم کے مقابلے میں 33.9 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ برفانی سرگرمیوں کو صرف سردیوں کے چند مہینوں تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل کاروباری مواقع میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس معیشت کا ایک اہم حصہ کھیلوں کے سامان کی صنعت بھی ہے۔ اسکی، اسکیٹس، حفاظتی لباس، ہیلمٹ اور دیگر آلات کی بڑھتی ہوئی طلب نے مقامی صنعت کاروں کے لیے نئی منڈیاں پیدا کی ہیں۔ چینی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق، برفانی کھیلوں کا سامان تیار کرنے والے اداروں کی تعداد 2015 میں تقریباً 300 تھی، جو 2023 میں بڑھ کر تقریباً 900 ہو گئی۔ اسی عرصے میں ان مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی پانچ ارب یوآن سے بڑھ کر تقریباً 22 ارب یوآن تک پہنچی ۔ اس طرح چین برفانی سیاحت کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ صنعتی پیداوار کو بھی ترقی دے رہا ہے۔

تاہم اس صنعت کی ترقی کے ساتھ وسائل کے استعمال اور ماحول کے تحفظ کا سوال بھی اہم ہے۔ مصنوعی برف بنانے، اسکی ریزورٹس چلانے اور بڑے تفریحی مراکز کی دیکھ بھال کے لیے پانی اور توانائی درکار ہوتی ہے۔ اس لیے مستقبل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ نئی سہولتیں کتنی مؤثر، محفوظ اور ماحول دوست انداز میں چلائی جاتی ہیں۔ اگر معیاری خدمات عام خاندانوں کی پہنچ میں رہیں اور مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات ملیں تو برف سے جڑی معیشت چین کے لیے محض موسمی تفریح نہیں، بلکہ سیاحت، صنعت اور روزگار کو جوڑنے والا ایک مضبوط معاشی شعبہ بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button