بیجنگ(نیوزڈیسک)جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں آسیان کے ساتھ چین کی تجارت میں اضافہ جاری رہا اور اس کا حجم 6.41 ٹریلین یوآن تک پہنچا ۔ آسیان لگاتار چار سال سے چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور چین بھی کئی سالوں سے آسیان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2023 تک ، چین اور آسیان کے مابین بیس سالوں میں تجارتی حجم میں 16.8 گنا اضافہ ہوا ہے ، اور دو طرفہ سرمایہ کاری کی کل مالیت 380 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ آر سی ای پی یعنی علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ جون 2023 میں مکمل طور پر نافذ العمل ہوا، جو دنیا کی تقریبا ایک تہائی آبادی اور تجارتی حجم کا احاطہ کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں آر سی ای پی کے 14 رکن ممالک کے ساتھ چین کی درآمدات اور برآمدات کی کل مالیت 12.6 ٹریلین یوآن تک پہنچی ہے۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ