برلن (نیوزڈیسک)3500 جرمن شہریوں نے دارالحکومت برلن میں ایک مظاہرہ کیا، جس میں نیٹو کی جانب سے ہتھیاروں کے اخراجات میں اضافے سے علاقائی امن کو متاثر کرنے کی مذمت کی گئی ،اور علاقائی تنازعات کے سفارت کاری کے ذریعے پرامن حل کرنے پر زور دیا گیا۔
مظاہرے کی منتظم باربرا ماجد امین نے کہا کہ نیٹو کی اسلحہ سازی کی پالیسی امن کو خطرے میں ڈالتی ہے، نیٹو کا رویہ امن سے متصادم ہے، یہ دفاعی اتحاد نہیں بلکہ جارحانہ اتحاد ہے، نیٹو نے ایسے بے شمار کام کیے ہیں، جو سب غلط ہیں۔نیٹو نے امن کے لیے کچھ نہیں کیا۔ماسوائے اسلحے کو مزید بڑھاوا دینے اور فوجی مشقوں کے ، نیٹو نے امن کے لیے کچھ نہیں کیا، اس نے جو کچھ کیا ہے اس نے حالات کو مزید خراب کیا ہے۔
بعض مظاہرین کا کہنا تھا کہ یورپ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے یورپی ممالک کے درمیان پرامن اور دوستانہ تعلقات کو بحال کرنا ہوگا، خاص طور پر یورپی ممالک اور روس کے درمیان تعلقات کو بحال کرنا ہوگا اور اسے فوجی ذرائع کے بجائے سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
Trending
- امریکی جارحیت کے خلاف کوریا کی حمایت میں لڑی جانے والی جنگ کے ایک ہزار سے زائد چینی شہداء کی باقیات کی وطن واپسی
- چین فائر بندی اور مذاکراتی عمل جاری رکھنے میں متعلقہ فریقوں کی حمایت کرتا ہے، چینی وزارت خارجہ
- جاپان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے، چین
- ’’ انسان آئے تو پرندے نہ گھبرائیں ‘‘: انسان اور فطرت کے تعلق میں یہ تبدیلی کیوں؟
- چین، ایک سو انتالیسویں کینٹن فیئر کے پہلے مرحلے کی آف لائن نمائش کا ختتام
- جاپانی ڈسٹرا ئر’’اکازوچی‘‘کاآبنائے تائیوان سے گزرنا اشتعال انگیزی کے مترادف ہے ، چینی میڈیا
- ڈیزل سے لدا پاکستانی جہاز خیرپور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بعد واپس ہوگیا
- ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا
- وزیر اعظم سعودیہ، قطر اور ترکیہ کے دورے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ملا جلا رجحان