برلن (نیوزڈیسک)3500 جرمن شہریوں نے دارالحکومت برلن میں ایک مظاہرہ کیا، جس میں نیٹو کی جانب سے ہتھیاروں کے اخراجات میں اضافے سے علاقائی امن کو متاثر کرنے کی مذمت کی گئی ،اور علاقائی تنازعات کے سفارت کاری کے ذریعے پرامن حل کرنے پر زور دیا گیا۔
مظاہرے کی منتظم باربرا ماجد امین نے کہا کہ نیٹو کی اسلحہ سازی کی پالیسی امن کو خطرے میں ڈالتی ہے، نیٹو کا رویہ امن سے متصادم ہے، یہ دفاعی اتحاد نہیں بلکہ جارحانہ اتحاد ہے، نیٹو نے ایسے بے شمار کام کیے ہیں، جو سب غلط ہیں۔نیٹو نے امن کے لیے کچھ نہیں کیا۔ماسوائے اسلحے کو مزید بڑھاوا دینے اور فوجی مشقوں کے ، نیٹو نے امن کے لیے کچھ نہیں کیا، اس نے جو کچھ کیا ہے اس نے حالات کو مزید خراب کیا ہے۔
بعض مظاہرین کا کہنا تھا کہ یورپ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے یورپی ممالک کے درمیان پرامن اور دوستانہ تعلقات کو بحال کرنا ہوگا، خاص طور پر یورپی ممالک اور روس کے درمیان تعلقات کو بحال کرنا ہوگا اور اسے فوجی ذرائع کے بجائے سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
Trending
- پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز
- نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ، جاپان کا ارادہ منظر عام پر آ گیا
- فلپائن کی علاقائی حدود میں جزیرہ ہوانگ یئن کبھی ان میں شامل نہیں رہا , چینی وزارت خارجہ
- چین کے نئے تین نمایاں شعبے عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا
- چین کا امریکہ سے چینی کمپنیوں پر دباؤ بند کرنے کا مطالبہ
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
- فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے کی شدید مخالفت کے باوجود مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
- فٹبال: امتیازی رویے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی لازمی قرار
- ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
- اگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاں