اقوام متحدہ میں چینی برانڈز کے داخلے کی سرگرمیوں کے ایک اہم حصے کے طور پر ” کارپوریٹ گلوبلائزیشن اینڈ سسٹینیبل ڈیولپمنٹ فورم 2024 ” 8 مئی کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا جس میں 20 سے زائد چینی کمپنیو ں نے چینی برانڈز کی پائیدار ترقی کے تصورکے تحت ترقی کی کہانیوں کا اشتراک کیا ۔
شرکت کرنے والی کمپنیاں آٹوموبائل مینوفیکچرنگ، نیٹ ورک ٹیکنالوجی، نئی توانائی، ہائی اینڈ مینوفیکچرنگ اور دیگر صنعتوں کا احاطہ کئے ہوئے تھیں ۔ فورم میں اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے دفتر برائے پائیدار ترقی، اقوام متحدہ کے محکمہ اقتصادی و سماجی امور، اقوام متحدہ کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن اور دیگر محکموں کے حکام کے علاوہ چینی اور امریکی کاروباری اداروں اور میڈیا کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اسی دن ، صنعت کاروں نے مشترکہ طور پر “چینی برانڈ کے اقوام متحدہ کے اعلامیے” پر دستخط کیے ، جس میں وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ مستقبل کے آپریشن میں ، سالمیت اور جدت طرازی کو بنیاد کے طور پر ، ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کی بچت کو اصول کے طور پر ، اور پائیدار ترقی کو تصور کے طور پر اپنائیں گے اور معاشرتی ذمہ داری قبول کرنے ، چین کی عمدہ ثقافتی وراثت اور چینی برانڈز کے بین الاقوامی امیج کو برقرار رکھنے کے لیے بھر پور کوشش کریں گے ۔ 10 مئی کو چائنا برانڈ ڈے منایا جاتا ہے، اور اس سال اس دن کا موضوع “چینی برانڈ، ورلڈ شیئرنگ؛ گھریلو برانڈ، اور مستقبل کی تشکیل “تھا۔
Trending
- بھارت کے امیر ترین کھلاڑی ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت کی تفصیلات سامنے آ گئیں
- عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں کم ہو گئیں
- جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ حافظ نعیم کی قیادت میں اسلام آباد کیلئے روانہ
- دنیا کے امیر ترین کرکٹ بورڈ کی غفلت سامنے آ گئی، بھارتی کرکٹ ٹیم کو تاحال کٹس نہ مل سکیں
- کراچی؛ گھر کے اندر فائرنگ سے خاتون جاں بحق، 9 سالہ بچی زخمی
- شیانگ شان فورم ہم آہنگی کے ساتھ تنوع کے حفاظتی نقطہ نظر کی وضاحت کرتا ہے، چینی میڈیا
- چین کا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مضبوط حمایت جاری رکھنے کا اعلان
- چین کا گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کی پانچویں سالگرہ پر اعلیٰ سطحی مکالمہ منعقد کرنے کا اعلان
- لاہور کے نوجوان طالب علم نے عزم، حوصلے اور محنت کی نئی مثال قائم کر دی
- نصف سال میں چین اور امریکہ کے سربراہانِ مملکت کے باہمی دورے تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہے، چینی وزارت خارجہ