بیجنگ:چین کی ریاستی کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان چھن بین حوا نے ایک باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ جنگ کے بجائے امن، کساد کے بجائے ترقی، علیحدگی کے بجائے تبادلے اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون جزیرہ تائیوان میں رائے عامہ کے مرکزی دھارے ہیں۔ لوگوں کی خواہش کے مطابق پرامن ترقی کے صحیح راستے پر چلنا، یا اس کے خلاف اشتعال انگیزی اور محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنا ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تائیوان علاقے کے نئے رہنما کو سنجیدگی سے دینا ہوگا۔
چھن بین حوا نے اس بات پر زور دیا کہ "تائیوان کی علیحدگی” آبنائے تائیوان میں امن سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ہم ہمیشہ ایک چین کے اصول اور "1992 اتفاق رائے” پر عمل کرتے ہیں، "تائیوان کی علیحدگی” اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان تعلقات کی پرامن ترقی اور مادر وطن کی وحدت کے عظیم نصب العین کو مضبوطی سے فروغ دیتے ہیں۔
Trending
- سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر پاکستان کو موصول، زرمبادلہ ذخائر مستحکم
- مسلم لیگ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی: چوہدری شجاعت حسین
- راولپنڈی؛ مدرسے کے معلم کی 13 سالہ طالبعلم سے مبینہ زیادتی ، مقدمہ درج
- وزیرِ خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات، رابطے و تعاون جاری رکھنے کا عزم
- یو اے ای کو تین میں سے دو ارب ڈالرز کل ادا کیے جانے کا امکان
- ترقی پذیر ممالک قرضوں کے دباؤ کا شکار، سرمایہ کاری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، وزیر خزانہ
- اینکر جمیل فاروقی کی اہلیہ عدالتی حکم پر بازیاب، شوہر پر تشدد کا الزام
- سونے کی قیمتوں میں آج مزید اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
- وزیراعظم قطر کے بعد ترکیہ پہنچ گئے
- درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکس قیمت کا 54 فیصد ہے، قائمہ کمیٹی اجلاس میں بریفنگ