نیویارک:امریکی سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے نائن الیون کی منصوبہ بندی کرنے والے ملزمان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو ختم کر دیا ہے اور انہیں سزائے موت کے مقدمات کے طور پر بحال کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق سیکریٹری دفاع نے جاری حکمنامے میں کہا کہ ’فیصلے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مقدمے سے قبل سمجھوتے کی منظوری کا اختیار ان کے پاس ہے لہٰذا وہ یہ معاہدہ ختم کرتے ہیں۔
دو دن قبل گوانتاناموبے میں ملٹری کمیشن نے ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الہوساوی کے ساتھ مقدمے کی کارروائی سے قبل سمجھوتہ طے پا جانے کا اعلان کیا تھا۔
القاعدہ کے حملے میں ہلاک ہونے والے تقریباً تین ہزار افراد کے اہل خانہ کو خطوط بھجوائے گئے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ سمجھوتے کے تحت اعتراف جرم کے بدلے میں تینوں ملزمان کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دی گئی ہے۔
چند خاندانوں نے اس معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مکمل ٹرائل اور ممکنہ سزائے موت کا امکان ختم ہو گیا ہے۔
مخالف جماعت ریپبلکن پارٹی نے بھی بائیڈن انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے ڈیل سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
نائن الیون کے پانچ ملزمان کے مقدمات کی نگرانی کرنے والا امریکی ملٹری کمیشن سال 2008 سے سماعتوں اور ابتدائی عدالتی کارروائی میں پھنسا ہوا ہے۔
خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی تحویل میں ملزمان پر ہونے والے تشدد کے باعث مقدمات سست روی کا شکار ہیں اور مکمل ٹرائل اور فیصلے کے امکان پر غیریقینی پائی جاتی ہے، جس کی ایک وجہ تشدد سے جڑے شواہد کا ناکافی ہونا ہے۔
القاعدہ کی جانب سے 11ستمبر 2001 کو کیے جانے والے حملوں سے متعلق مقدمہ چلنے کے 16 سال بعد امریکی حکومت نے ان افراد کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔
اس واقعے کو تقریباً 24 سال کا عرصہ گزر چکا ہے جب عسکریت پسندوں نے چار کمرشل ایئر لائنز کے جہاز استعمال کرتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرا دیے تھے۔
امریکی حکام کے خیال میں طیاروں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے آئیڈیا کے خالق خالد شیخ محمد تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن سے اجازت لی تھی جنہیں امریکی افواج نے 2011 میں ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا۔
خالد شیخ محمد کو 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ خالد شیخ کو گوانتانامو بے کی جیل میں منتقل کرنے سے پہلے سی آئی اے کی حراست میں رکھا گیا اور اس دوران 183 مرتبہ انہیں واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا، پوچھ گچھ کی گئی اور ان پر مختلف قسم کا تشدد کیا گیا۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن