اسلام آباد:حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے کہا کہ اگر کوئی صحیح کام نہ کرے تو ہم سے یہ توقع نہ کریں کہ خاموش بیٹھیں گے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں آپ سب کاموں میں کیوں چلے جاتے ہیں، آرمی چیف نے کہا جن کے جو کام ہیں وہ صحیح طریقے سے کریں تو ہمیں ان کے کام کرنے کا شوق نہیں۔
عارف حبیب نے کہا کہ آرمی چیف نے کہا کہ ملک اور عوام کے مفاد میں یقینی بنائیں گے چیزیں درست چلیں، آرمی چیف نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں بہت جلد کم ہونا شروع ہوں گی۔
معروف بزنس مین کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے کہا کہ چین، سعودی عرب اور یو اے ای ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی معیشت کے لیے دوست ممالک ساتھ کھڑے ہوئے، آئی ایم ایف پروگرام کے لیے پاکستان کے برادر ممالک نے بہت مدد کی ہے۔
عارف حبیب نے بتایا کہ آرمی چیف سے بزنس کمیونٹی کی گزشتہ ملاقات 3 ستمبر 2023 میں ہوئی تھی، آرمی چیف سے بزنس کمیونٹی کی ملاقات دوبارہ ایک سال بعد ہوئی ہے۔
آرمی چیف نے بتایا کہ گزشتہ میٹنگ میں کیے گئے وعدے پورے کیے، آرمی چیف نے خطاب میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ رہنےکے لیے بناہے۔
عارف حبیب نے بتایا کہ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان امیر ملک ہے ضرورت ہے کہ ہم محنت کریں، آرمی چیف نے بزنس کمیونٹی کو کہا کہ معیشت ہماری اولین ترجیح ہے۔
حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف نےبزنس کمیونٹی کو کہا کہ قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
Trending
- شرح سود کا تعین کرنے کیلیے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا
- ایران امریکہ امن معاہدہ عالمی امن کی جانب اہم پیش رفت، پاکستان کا مثبت تشخص مزید اجاگر ہوا، مصطفیٰ ملک
- پنجاب حکومت کا اعلیٰ تعلیمی اداروں کا نظام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے کا فیصلہ
- اے سی سی مینز چیلنجر کپ: ویزا تنازع نے پورے ٹورنامنٹ کا نقشہ بدل دیا
- دلجیت دوسانجھ سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں، کنگنا رناوت کی برسوں پرانی چپقلش پر وضاحت
- سندھ کا بجٹ 17 جون کو پیش کیا جائے گا
- شارجہ پولیس نے غیر ملکی خاتون کو مبینہ گھریلو تشدد سے بچالیا
- حسن ابدال: ڈکیتی کے ایک اور مقدمے میں گرفتار ملزم فرجاد ارشد عرف فاری کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
- شنگھائی تعاون تنظیم نے علاقائی تعاون کا نیا ماڈل پیش کیا ہے ، چینی وزارتِ خارجہ
- چین کا امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر اتفاقِ رائے کا خیرمقدم