جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا کہ جرمن چانسلر اولاف شولز نے حزب اختلاف کی جانب سے 13 نومبر کو حکومت پر اعتماد کا ووٹ لینے کی درخواست قبول نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمان کے ایوان زیریں میں موجود دھڑے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ پاتے تو ضرورت پڑنے پر شولز خود ووٹنگ کی تاریخ کا فیصلہ کریں گے۔ 10 نومبر کو جرمن چانسلر شولز نے کہا کہ وہ بنڈس ٹاگ کی جانب سے حکومت پر اعتماد کا ووٹ لینے کی تاریخ رواں سال 25 دسمبر سے قبل دے سکتے ہیں۔ جرمنی کے بنیادی قانون کے مطابق اگر شولز حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تو جرمن صدر چانسلر کی تجویز پر بنڈس ٹاگ کو تحلیل کر سکتے ہیں اور 60 دن کے اندر نئے انتخابات کروا سکتے ہیں۔ 11 نومبر کو جرمن پریس ایجنسی کی اطلاع کے مطابق جرمن سی ڈی یو کے رہنما میرز نے کہا کہ اگلے سال 16 یا 23 فروری کو انتخابات کی مناسب تاریخ ہے۔ میرز کو اگلے چانسلر کے عہدے کے لئے مضبوط امیدوار سمجھا جاتا ہے۔
Trending
- یو ایس اوپن: پہلی مرتبہ فائنل میں پہنچنے والے بین شیلٹن کو زیوریو کا چیلنج درپیش
- شاہین آفریدی کا ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کا عزم، ریڈ بال کرکٹ کو پہلی ترجیح قرار دے دیا
- ایران سے پاکستان کی درآمدات میں 17 فیصد اضافہ
- رضا اللہ کی دھواں دار بیٹنگ سے انگلینڈ بے بس، سابق انگلش کپتان اپنی ٹیم پر برس پڑے
- کرسٹیانو رونالڈو ایک انسٹاگرام پوسٹ کا کتنا معاوضہ لیتے ہیں؟ حیران کن انکشاف
- چینی صدر کی برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کامیابی سے مکمل
- چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز ، کثیر القومی کمپنیوں کے لیے چین کے نئے مواقع کا مرکز بن گیا
- نئے عہد کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پیش رو قوت بنیں اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھائیں، چینی صدر
- 18 ویں برکس سربراہی اجلاس کا اعلامیہ جاری
- چین نے ہمیشہ چین-بھارت تعلقات کو تزویراتی اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھا ہے، چینی صدر