پیرو (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ چین اور پیرو کو عملی تعاون کو بہتر بنانا اور اگلے درجے پر لے جانا چاہیے اور دونوں ممالک کے عوام کو بہتر فائدہ پہنچانے کے لیے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مسلسل نئی بلندیوں تک پہنچانا چاہئے۔
پیرو کی صدر دینا بولوارٹے کے ساتھ ملاقات میں شی نے کہا کہ پیرو کا یہ ان کا تیسرا دورہ اور بولوارٹے سے ملاقات کا ایک سال میں تیسرا موقع ہے۔ پیرو کے شہری ان کے استقبال کے لئے سڑک کنارے جمع تھے اور ہاتھ ہلا کر انہیں چین کے عوام کے لیے پیرو کے عوام کی دوستانہ جذبات کا احساس دلا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور پیرو دونوں قدیم تہذیبیں ہیں۔یہ اپنی گہری تاریخی وراثت اور وسیع بصیرت سے مالا مال ہیں۔اس کی وجہ سے وہ تاریخ کی ترقی کی سمت کو واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔دونوں تہذ یبیں وقت کے رجحانات سے ہم آہنگ ہیں اور ہمیشہ مساوات، باہمی احترام، باہمی اعتماد اور باہمی سیکھنے پر عمل پیرا ر ہی ہیں۔اس سے چین۔ پیرو تعلقات مختلف رقبے ، نظام اور ثقافتوں کے ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعاون کا نمونہ بن گئے ہیں۔
شی نے کہا کہ 53 برس قبل دوطرفہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد اور خاص کر 2016 میں لاطینی امریکی ملک کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے بعد سے مشترکہ کوششوں کے تحت فریقین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون تیزی سے بڑھا جس سے دونوں ممالک کے عوام کو ٹھوس فوائد ملے۔
انہوں نے کہا کہ فریقین کو تجربے کا خلاصہ کرنا، عملی تعاون کو بہتر اور اپ گریڈ کرنا اور چین ۔ پیرو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہئے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو بہترین فائدہ ہو۔
ملاقات کے دوران پیرو کی صدر بولوارٹے نے شی کے دورے کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندرپار چینی شہر یوں کی ایک بڑی تعداد نے تاریخ میں پیرو کی قومی تعمیر میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ دونوں اطراف کی عوام گہری دوستی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین عرصہ دراز سے پیرو کا اہم ترین تجارتی شراکت داررہا ہے اور مختلف شعبوں میں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو آگے بڑھا نے کے بعد تعاون کے مفید نتائج حاصل کئے گئے ہیں۔یہ باہمی فائدہ مند تعاون اور مشترکہ ترقی کے فروغ میں دونوں ممالک کے پختہ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
مذاکرات کے بعد دونوں سربراہان مملکت نے دونوں ممالک کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے منصوبے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ دوطرفہ آزادانہ تجارت کے معاہدے کو اپ گریڈ کرنے کے معاہدے کے ساتھ ساتھ معیشت و تجارت، صنعتی سرمایہ کاری، صنعتی پارکس، تعلیم اور ماحول دوست ترقی میں متعدد دوطرفہ تعاون کی دستاویزات کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔
فریقین نے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا۔
شی نے بولوارٹے کی طرف سے منعقدہ استقبالیہ ضیافت میں بھی شرکت کی۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ