اسرائیلی فوج نے بیروت کے ایک گنجان آباد علاقے پر فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں آٹھ منزلہ رہائشی عمارت تباہ ہوئی اور کم از کم 20 افراد شیہد ہو گئے۔ حزب اللہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جس عمارت پر حملہ کیا اس میں حزب اللہ کا کوئی اعلی رہنما نہیں تھا ۔
لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے اس دن صبح 4 بجے کے قریب عمارت پر چار میزائل گرائے جن میں ایسے بم بھی شامل تھے جو زیر زمین بنکرز میں بھی داخل ہو سکتے تھے۔ اسرائیلی فوج نے فضائی حملہ کرنے سے قبل کوئی وارننگ جاری نہیں کی تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج حزب اللہ کی اہم شخصیات کو ہلاک کرنے کے لیے ایسے میزائل استعمال کرتی رہی ہے اور ایسے ہی حملے میں حزب اللہ کے سابق رہنما سید حسن نصراللہ رواں سال ستمبر میں جاں بحق ہوئے تھے۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران بیروت کے مرکزی علاقے کو نشانہ بنانے والا اسرائیل کا یہ چوتھا فضائی حملہ ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فضائی حملے بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر مرکوز تھے۔
لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 23 نومبر کو لبنان میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں 55 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔
لبنان اسرائیل تنازع کے نتیجے میں اب تک لبنان میں کم از کم 3670 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حزب اللہ کے حملوں نے شمالی اسرائیل، اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں اور جنوبی لبنان میں 100 سے زائد اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔
Trending
- انمول پنکی کے خواتین سمیت 7 قریبی ساتھی کون ہیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی
- فیفا ورلڈکپ: امریکا میں کھلاڑیوں کی مجرموں کی طرح تلاشی پر سوالات اٹھنے لگے
- طلاق کے باوجود ’سنگل مدر‘ نہیں، ایشا دیول نے وضاحت کر دی
- تیل، گیس کی تلاش اور ذخائر کے آپریشنز میں مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی
- انمول پنکی کے خلاف منشیات اور قتل کے مقدمات میں پیش رفت
- وفاقی وزیر بحری امور سے سابق کرکٹ کپتان شاہد آفریدی
- فلم ’پیڈی‘ سے جھانوی کپور کے متنازع مناظر ہٹا دیے گئے، ہدایتکار کا اعتراف
- پاکستان میں82 فیصد صارفین خریداری کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایجنٹس پر بھروسہ کرتے ہیں، رپورٹ
- کراچی: سابق شوہر کے ساتھ ملکر موجودہ شوہر کو قتل کرنے والی ملزمہ پولیس اہلکار نکلی
- آئی سی سی کا لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کی پچز سے متعلق اہم فیصلہ!