نیویارک:2020 کے انتخابات میں مبینہ مداخلت کے الزام میں نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف کیس کی سماعت کرنے والے جج نے کیس خارج کر دیا ۔
اس سے قبل امریکہ کے خصوصی وکیل جیک اسمتھ نے جج سے کیس ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، اس کی وجہ دہائیوں پرانا امریکی محکمہ انصاف کا پالیسی نظام ہے جس کے تحت “موجودہ صدر کو فوجداری مقدمے سے استثنیٰ حاصل ہے”۔
گزشتہ سال جیک اسمتھ نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو مبینہ طور پر تبدیل کرنے کے الزام میں ٹرمپ کے خلاف باضابطہ طور پر چار فوجداری مقدمات دائر کیے تھے۔ تاہم ٹرمپ نے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے یکم جولائی کو فیصلہ سنایا تھا کہ ٹرمپ کو “2020 کے انتخابات میں مبینہ مداخلت” میں فوجداری مقدمے سے کچھ حد تک استثنیٰ حاصل ہے۔ رواں ماہ، صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی جیت کے بعد، ان کے خلاف مقدمات ختم کئے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ امریکہ کی تاریخ میں پہلے سابق صدر ہیں جن پر فوجداری مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ انہیں چار فوجداری مقدمات کا سامنا رہا اور مجموعی طور پر 91 الزامات عائد کیے گئے ۔
Trending
- ایشیا کپ کی ٹرافیاں کب ملیں گی؟ بی سی سی آئی سیکریٹری کا انکشاف
- بھارت کا دوغلا چہرہ، پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کے باوجود وینیو تبدیلی سے انکار
- انگلش فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو پولیس تحقیقات میں بڑا ریلیف مل گیا
- کرسٹیانو رونالڈو کے مداحوں کیلیے بڑی خوشخبری
- چین، پہلی انٹیلیجنٹ روبوٹ ایپلیکیشن اسکلز ایگزیبیشن کا انعقاد
- ورلڈ کانفرنس آن سائنس لٹریسی 2026 کا بیجنگ میں آغاز
- رضوان صادق خان کو 25 سالہ سیاسی و سماجی خدمات پر گولڈ میڈل سے نواز دیا گیا
- ایشین گیمز میں سیاست سے گریز کریں، او سی اے صدر کا شریک ممالک سے مطالبہ
- ماسکو میں بڑے پیمانے پر ڈرون حملے، 2 افراد ہلاک
- چین کا آئچی -ناگویا ایشین گیمز 2026 میں پہلا گولڈ میڈل