بیجنگ(شِنہوا)چین نے 2024 میں تحقیق کے کلیدی شعبوں اور ابھرتی ہوئی سرحدات پر رپورٹس جاری کردی ہیں۔ رواں سال تیزی سے ترقی کرنے والے 125 تحقیقی شعبوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ڈویلپمنٹ، نیشنل سائنس لائبریری اور چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کی جانے والی 2 رپورٹس عالمی سائنس و ٹیکنالوجی کے رجحانات کو سمجھنے، مستقبل میں اہم سائنسی کامیابیوں کی پیش گوئی کرنے اور قومی جدیدیت کو تقویت دیتی ہیں۔
تحقیقی محاذوں میں زرعی سائنس، نباتات اور حیوانات، ماحولیات اور ماحولیاتی سائنس، زمینی سائنس، ادویات، حیاتیاتی سائنس، کیمیا اور مادی سائنس، طبیعات، فلکیات اور فلکی طبیعات، ریاضی، انفارمیشن سائنس، معاشیات اور نفسیات جیسے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ڈویلپمنٹ کے صدر پین جیاؤفینگ نے کہا ہے کہ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی سائنسی تحقیق، اگلی نسل کے اعلیٰ کارکردگی کے مواصلات، مستقبل کی توانائی، آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنا، انسانی صحت اور فلاح و بہبود کو بہتر بنانا سائنسی تحقیق کے کلیدی شعبے بن گئے ہیں۔
Trending
- relief for salaried class recommended tax rate
- بجٹ 27-2026ء میں اگلے مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 4 فی صد مقرر
- بجٹ 2026-2027 پیٹرولیم لیوی پر بڑے اضافے کی تجویز
- سولر پینل پر کوئی ٹیکس نہیں بڑھے گا
- سولر کی وجہ سے بجلی مہنگی نہیں ہوئی، پینلز پر ٹیکس نہیں لگایا جارہا ہے، ایف بی آر حکام
- بجٹ مایوس کن ہوگا، فوٹوسیشن کیلیے وزیراعظم کے پاس نہیں جانا چاہتے، چیئرمین پی ٹی آئی
- پیٹرول پر لیوی میں کمی، ڈیزل پر بڑھا دی گئی
- shopkeepers fixed tax – ایکسپریس اردو
- درآمدی گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان، ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
- بجٹ عوام دوست نہیں، حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کا تحفظات کا اظہار
Prev Post