اقوام متحدہ نے "عالمی اقتصادی صورتحال اور امکانات 2025” (ڈبلیو ای ایس پی) رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2025 میں عالمی اقتصادی ترقی 2.8 فیصد رہے گی، جو 2024 کے برابر ہے۔ اگرچہ عالمی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور کامیابی سے مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے ، لیکن یہ کمزور سرمایہ کاری ، کمزور پیداواری نمو اور قرضوں کی بلند سطح کی وجہ سے محدود ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افراط زر میں کمی اور بہت سی معیشتوں میں مسلسل نرم مالیاتی پالیسیاں 2025 میں عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو معمولی فروغ دے سکتی ہیں ۔ تاہم، غیر یقینی صورتحال بدستور موجود ہے، جس میں جغرافیائی سیاسی تنازعات، بڑھتا ہوا تجارتی تناؤ، اور بہت سے خطوں میں قرضوں کے بوجھ شامل ہیں۔ ان چیلنجز کے پیش نظر جو خاص طور پر کم آمدنی والے اور غریب ممالک کے لئے زیادہ خطرناک ہیں، سست اور کمزور معاشی کارکردگی پائیدار ترقیاتی اہداف کی جانب پیش رفت کو خطرے میں ڈال دے گی۔
Trending
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم
- امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد واپسی کا امکان، امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ
- پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟
- آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، : چین
- چین اور اسپین کے تعلقات میں مسلسل اور مستحکم ترقی ہوئی ہے، چینی صدر
- متحدہ عرب امارات چین کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے، چینی صدر
- اقوامِ متحدہ کا یوم چینی زبان نیروبی میں منایا گیا
- چین کی جانب سے اسلام آبادمذاکرات کی تعریف