بیجنگ : آٹھویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو پانچ سے دس نومبر تک، شنگھائی میں منعقد ہو رہی ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا کہ ایکسپو میں 155 ممالک، خطے اور بین الاقوامی تنظیمیں شریک ہیں۔ 290 فارچون گلوبل 500 کمپنیاں اور صنعت کی معروف انٹرپرائزز بھی ایکسپو میں شامل ہیں۔ ایکسپو کا رقبہ اور شریک کمپنیوں کی مجموعی تعداد دونوں اعتبار سے تاریخی ریکارڈ قائم ہوئے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کا نمائشی رقبہ ساتویں سال بھی مسلسل پہلے نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار چین کی وسیع مارکیٹ کی متحرک توانائی کی گواہی ہیں، جو کھلے تعاون اور باہمی مفاد پر مبنی “جیت جیت” کے لیے تمام فریقوں کی خواہش کا واضح اشارہ ہیں۔آٹھویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو نے دنیا کو کھلے پن کی یقین دہانی فراہم کی ہے۔ 5 تاریخ کو، آٹھویں ہونگ چیاؤ بین الاقوامی اقتصادی فورم میں جاری کردہ “ورلڈ اوپننس رپورٹ 2025″ کے مطابق، 2024 میں عالمی کھلے پن کا اشاریہ 0.7545 رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.05 فیصد کم ہے۔ اس کے برعکس، چین کے کھلے پن کے اشاریے میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ 2024 میں چین کے کھلے پن کا اشاریہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.5 فیصد بڑھا۔ خاص طور پر 1990 تا 2024 کے دوران، کھلے پن کا اشاریہ 0.5891 سے بڑھ کر 0.7634 ہو گیا، جو 29.6 فیصد کا اضافہ ہے، چین اس اعتبار سے دنیا میں سرفہرست ہے۔اس ایکسپو کے ذریعے، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے چینی ترقی کے استحکام کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔ کئی غیر ملکی کمپنیوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ چین کی وسیع مارکیٹ، کھلے اور جامع سرمایہ کاری کے ماحول، اور مستحکم پالیسی توقعات ان کے لیے انتہائی پرکشش ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں سنٹرل کمیٹی کے چوتھے کل رکنی اجلاس میں نئے معیار کی پیداواری قوتوں کی رہنمائی کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت کی حکمت عملی نے انہیں خاص طور پرمتاثر کیا ہے۔اس ایکسپو نے دنیا کے لیے باہمی کامیابی کی یقین دہانی بھی فراہم کی ہے۔ چین جامع اور ہمہ گیر معاشی عالمگیریت کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے، تاکہ دنیا کے تمام ممالک ترقی کے فوائد میں مشترکہ طور پر حصہ دار بن سکیں، اور یہ ایکسپو اس تصور کو عملی شکل میں ڈھالنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ تاحال،سب سے پسماندہ ممالک کی کل 163 کمپنیوں نے ایکسپو میں حصہ لیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 23.5 فیصد اضافہ ہے۔ افریقی ممالک کی کمپنیوں کی شرکت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔”نئے عہد میں، مشترکہ مستقبل” کا پیغام دینے والی یہ ایکسپو دنیا کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ عالمی معیشت کی سست روی اور بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تنازعات کے تناظر میں، مساوات اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون پر قائم رہنا، آزاد تجارت کو اپنانا ناگزیر ہے۔ یہ عوامی خواہشات کی عکاسی بھی ہے اور عمومی رجحان بھی۔
Trending
- پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں 248 پوائنٹس کا اضافہ
- صنعتی تبدیلیاں تیزی سے ہو رہی ہیں، چینی صدر
- چین کے نائب صدرہان ژینگ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس کی عام بحث میں شرکت کریں گے
- ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سمیت غیر ملکی رہنما اڑتالیسویں ورلڈ سکلز مقابلوں اور پانچویں گلوبل ڈیجیٹل ٹریڈ ایکسپو میں شرکت کریں گے
- چینی نائب وزیراعظم ڈنگ شوئے شیانگ کی نوجوان پرچم بردار ٹیموں کے وفد سے ملاقات
- پاکستان انڈر 19 ٹیم کو پہلی بار سینٹرل کنٹریکٹس دینے کا فیصلہ
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 1800 روپے کم ہوگئی
- ایشین گیمز: سلمان مرزا قومی اسکواڈ سے باہر، محمد وسیم جونیئر شامل
- اسلام آباد پر دھاوا بولا تو اپنا ہی نقصان ہوگا، محسن نقوی کی پی ٹی آئی کو وارننگ
- نیپال کے لیے تیار کردہ “ما زو”کا خصوصی ورژن نیپال کے حوالے