نیو یارک اسٹیٹ سپیریئر کورٹ کے ایک جج نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف “ہش منی” کیس کا فیصلہ سنایا ، جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 34 الزامات درست ثابت ہوئے، لیکن چونکہ وہ صدارتی اقتدار کی منتقلی کے اہم مرحلے میں ہیں،لہذا انہیں سزا سنائے بغیر غیر مشروط طور پر رہا کر دیا گیا۔
“غیر مشروط رہائی” کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے اُن کا جرم برقرار رکھا ہے ، لیکن انہیں قید، جرمانے یا پروبیشن کی سزا نہیں دی جائے گی۔ یعنی 10 دن بعد 20 جنوری کو ٹرمپ باضابطہ طور پر وائٹ ہاؤس میں ایک مجرم کے طور پر واپس جائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی روز ویڈیو لنک کے ذریعے کیس کی سماعت میں شرکت کی اور اصرار کیا کہ وہ بے قصور ہیں اور انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ امریکہ کے متعلقہ قانون کے مطابق ٹرمپ فیصلہ سنائے جانے کے بعد اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
Trending
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن
- 26ویں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ میں چین میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع نمایاں