نیو یارک اسٹیٹ سپیریئر کورٹ کے ایک جج نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف “ہش منی” کیس کا فیصلہ سنایا ، جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 34 الزامات درست ثابت ہوئے، لیکن چونکہ وہ صدارتی اقتدار کی منتقلی کے اہم مرحلے میں ہیں،لہذا انہیں سزا سنائے بغیر غیر مشروط طور پر رہا کر دیا گیا۔
“غیر مشروط رہائی” کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے اُن کا جرم برقرار رکھا ہے ، لیکن انہیں قید، جرمانے یا پروبیشن کی سزا نہیں دی جائے گی۔ یعنی 10 دن بعد 20 جنوری کو ٹرمپ باضابطہ طور پر وائٹ ہاؤس میں ایک مجرم کے طور پر واپس جائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی روز ویڈیو لنک کے ذریعے کیس کی سماعت میں شرکت کی اور اصرار کیا کہ وہ بے قصور ہیں اور انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ امریکہ کے متعلقہ قانون کے مطابق ٹرمپ فیصلہ سنائے جانے کے بعد اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
Trending
- کیا سیف علی خان پاکستانی ڈرامے میں کام کررہے ہیں؟ وکی پیڈیا پر نام شامل
- حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ کردیا
- الیکٹرک بسیں کشمیر کو دینا سیاسی رشوت ہے، اپوزیشن کی تحریک التواء پنجاب اسمبلی میں جمع
- کاوا چیمپین شپ: پاکستان اور بنگلادیش نے فائنل میں جگہ بنالی
- سڑک پر کسمپرسی کی حالت میں ملنے والی بھارت کی سینئر اداکارہ زندگی کی بازی ہار گئیں
- عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی
- گلگت بلتستان پورٹ پر کارروائیاں، 317 موبائل فونز، 3540 بوتلیں شراب برآمد
- کامن ویلتھ گیمز: فاطمہ زہرا تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون باکسر بن گئیں
- وائرل جم ویڈیو پر قیاس آرائیاں، رجب بٹ نے سعدیہ بلوچ سے تعلق کی حقیقت بتادی
- بھارتی کرکٹ ٹیم کے اسسٹنگ کوچ عہدے سے مستعفی