نیو یارک اسٹیٹ سپیریئر کورٹ کے ایک جج نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف "ہش منی” کیس کا فیصلہ سنایا ، جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 34 الزامات درست ثابت ہوئے، لیکن چونکہ وہ صدارتی اقتدار کی منتقلی کے اہم مرحلے میں ہیں،لہذا انہیں سزا سنائے بغیر غیر مشروط طور پر رہا کر دیا گیا۔
"غیر مشروط رہائی” کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے اُن کا جرم برقرار رکھا ہے ، لیکن انہیں قید، جرمانے یا پروبیشن کی سزا نہیں دی جائے گی۔ یعنی 10 دن بعد 20 جنوری کو ٹرمپ باضابطہ طور پر وائٹ ہاؤس میں ایک مجرم کے طور پر واپس جائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی روز ویڈیو لنک کے ذریعے کیس کی سماعت میں شرکت کی اور اصرار کیا کہ وہ بے قصور ہیں اور انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ امریکہ کے متعلقہ قانون کے مطابق ٹرمپ فیصلہ سنائے جانے کے بعد اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
Trending
- اسکواش چیمپئن شپ: سندھ کے 8 کھلاڑی سیمی فائنل میں پہنچ گئے
- وفاقی حکومت کی معاشی شرح نمو، زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا انکشاف
- انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور بولر گَس ایٹکنسن کیخلاف بڑا فیصلہ!
- National Economic Council approves budget 2026-2027
- پاکستان آرمی نے 31 ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپین شپ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا
- بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیے جانے کا امکان
- پنجاب سے ملحق چیک پوسٹوں سے پختونخوا کو گندم اور آٹا نہیں دیا جارہا، گورنر کے پی
- سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان نے پی سی بی کیساتھ کام کرنے کیلیے رضامندی ظاہر کردی
- حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ریلیف پیکیج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا
- سفارتی امور پر چینی صدر کے منتخب کلام” کی جلد اوّل اور جلد دوم کی اشاعت