نیو یارک اسٹیٹ سپیریئر کورٹ کے ایک جج نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف "ہش منی” کیس کا فیصلہ سنایا ، جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 34 الزامات درست ثابت ہوئے، لیکن چونکہ وہ صدارتی اقتدار کی منتقلی کے اہم مرحلے میں ہیں،لہذا انہیں سزا سنائے بغیر غیر مشروط طور پر رہا کر دیا گیا۔
"غیر مشروط رہائی” کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے اُن کا جرم برقرار رکھا ہے ، لیکن انہیں قید، جرمانے یا پروبیشن کی سزا نہیں دی جائے گی۔ یعنی 10 دن بعد 20 جنوری کو ٹرمپ باضابطہ طور پر وائٹ ہاؤس میں ایک مجرم کے طور پر واپس جائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی روز ویڈیو لنک کے ذریعے کیس کی سماعت میں شرکت کی اور اصرار کیا کہ وہ بے قصور ہیں اور انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ امریکہ کے متعلقہ قانون کے مطابق ٹرمپ فیصلہ سنائے جانے کے بعد اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
Trending
- پی ایچ ایف کا سینئر، جونیئر اور انڈر 18 ٹیموں کیلیے نئے مینجمنٹ پینلز کا اعلان
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- ایران کا جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ
- ارجنٹینا کے لیجنڈ میراڈونا کی موت کا معمہ، کیس کی دوبارہ سماعت کا فیصلہ
- سیکیورٹی اداروں کی کارروائی؛ بھارتی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنے والے 3 افراد گرفتار
- قلندرز اور گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کی کینسر سے متاثر بچوں سے ملاقات
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا