بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے “سالٹ ٹائیفون” سائبر حملے میں ملوث ہونے کے بہانے متعلقہ چینی کاروباری اداروں اور شہریوں پر پابندیوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین امریکی بائیڈن حکومت کی جانب سے ٹھوس ثبوت کے بغیر چین پر الزام لگانے اور پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ در اصل امریکہ نے چین پر طویل مدتی، منظم اور بڑے پیمانے پر سائبر حملے جاری رکھے ہیں۔ چین نے متعدد مرتبہ اس کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
ماؤ ننگ نے نشاندہی کی کہ چین اور امریکہ دونوں انٹرنیٹ کے حوالے سے بڑے ممالک ہیں۔ انٹرنیٹ، خاص طور پر بنیادی تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان تشویش پائی جاتی ہے۔ دونوں فریقوں کو انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر ٹھوس ثبوت کے مطابق اپنی اپنی تشویش پر بات چیت کرنی چاہیئے، بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی پابندی کرنی چاہیئے اور مشترکہ طور پر سائبر اسپیس کے امن و استحکام کی حفاظت کرنی چاہیئے۔ امریکہ کو پابندیوں کا غلط استعمال بند کرنا چاہیئے۔
Trending
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن
- 26ویں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ میں چین میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع نمایاں
- امریکا فوری طور پر چین کے خلاف جاسوسی سرگرمیاں بند کرے، چینی وزارت تجارت