بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے “سالٹ ٹائیفون” سائبر حملے میں ملوث ہونے کے بہانے متعلقہ چینی کاروباری اداروں اور شہریوں پر پابندیوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین امریکی بائیڈن حکومت کی جانب سے ٹھوس ثبوت کے بغیر چین پر الزام لگانے اور پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ در اصل امریکہ نے چین پر طویل مدتی، منظم اور بڑے پیمانے پر سائبر حملے جاری رکھے ہیں۔ چین نے متعدد مرتبہ اس کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
ماؤ ننگ نے نشاندہی کی کہ چین اور امریکہ دونوں انٹرنیٹ کے حوالے سے بڑے ممالک ہیں۔ انٹرنیٹ، خاص طور پر بنیادی تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان تشویش پائی جاتی ہے۔ دونوں فریقوں کو انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر ٹھوس ثبوت کے مطابق اپنی اپنی تشویش پر بات چیت کرنی چاہیئے، بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی پابندی کرنی چاہیئے اور مشترکہ طور پر سائبر اسپیس کے امن و استحکام کی حفاظت کرنی چاہیئے۔ امریکہ کو پابندیوں کا غلط استعمال بند کرنا چاہیئے۔
Trending
- ایران کے حملوں سے ہونے والے امریکی نقصانات کی طویل فہرست سامنے آگئی
- داتا دربار کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، بھاری مقدار میں چرس اور آئس برآمد
- دنیا کے معمر ترین پروفیشنل فٹبالر کا 4 سال بعد گول
- پنجاب بھر میں 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ، دریاؤں اور ڈیموں میں نہانے پر پابندی
- ابھیشیک شرما زمبابوے کیخلاف بھی بری طرح ناکام
- جی ایس پی پلس رپورٹ ، پاکستان کیلیے پیشرفت اوردرپیش چیلنجز
- چین میں ٹیکس اور فیسوں کی مد میں مجموعی وصولیاں 167 کھرب یوآن تک پہنچ گئیں
- چین اور عالمی برادری کے سامنے جاپان ذمہ دارانہ جوابدہی پیش کرے، چینی سفارت خانہ
- امریکہ کا ایران کو سخت فوجی کارروائی کا انتباہ،تہران کی جانب سے مذاکرات کی تردید
- ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے پر رواں سال دوسری بار فائرنگ