بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے "سالٹ ٹائیفون” سائبر حملے میں ملوث ہونے کے بہانے متعلقہ چینی کاروباری اداروں اور شہریوں پر پابندیوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین امریکی بائیڈن حکومت کی جانب سے ٹھوس ثبوت کے بغیر چین پر الزام لگانے اور پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ در اصل امریکہ نے چین پر طویل مدتی، منظم اور بڑے پیمانے پر سائبر حملے جاری رکھے ہیں۔ چین نے متعدد مرتبہ اس کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
ماؤ ننگ نے نشاندہی کی کہ چین اور امریکہ دونوں انٹرنیٹ کے حوالے سے بڑے ممالک ہیں۔ انٹرنیٹ، خاص طور پر بنیادی تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان تشویش پائی جاتی ہے۔ دونوں فریقوں کو انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر ٹھوس ثبوت کے مطابق اپنی اپنی تشویش پر بات چیت کرنی چاہیئے، بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی پابندی کرنی چاہیئے اور مشترکہ طور پر سائبر اسپیس کے امن و استحکام کی حفاظت کرنی چاہیئے۔ امریکہ کو پابندیوں کا غلط استعمال بند کرنا چاہیئے۔
Trending
- مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کا ایک بار پھر پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار
- وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا قومی کھیل ہاکی کی بحالی کیلئے بڑا اقدام
- اداکارہ مومنہ اقبال اور مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں، رمشا اقبال
- پنجاب حکومت کا 500 ارب روپے ریونیو ہدف، 12 اداروں سے سرکاری پراپرٹیز کی تفصیلات طلب
- کراچی میں شدید گرم و مرطوب موسم برقرار، پارہ 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- افریقی فٹبال ریفری کو امریکا نے ملک میں داخل ہونے سے روک دیا، وطن واپسی پر شاندار استقبال
- رومانوی اداکار سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 44 برس گزر گئے
- بجٹ؛ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد بڑھانے کا امکان
- عالمی انسانی حقوق گورننس میں چین کا ذمہ دارانہ کردار ہے، چینی میڈیا
- جاپان نے نام نہاد "امن پسند ملک”کا نقاب خود ہی اتار لیا ہے،چینی وزارت خارجہ