بیجنگ :ٹورنٹو میں واقع چین۔کینیڈا تجارتی کونسل 1978 میں قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد کینیڈا اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ تاحال، یہ کونسل کینیڈا کے متعدد مقامات کے علاوہ چین کے شہروں بیجنگ اور شنگھائی میں اپنے نمائندہ دفاتر رکھتی ہے۔ اس کے 300 سے زیادہ رکن کاروباری ادارے ہیں۔ 2024 میں، چین۔کینیڈا تجارتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ دو سالہ رپورٹ کاروباری سروے’’ میں ذکر کیا گیا کہ کینیڈا کے لیے، ایک ایسا ملک جو بین الاقوامی تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، چین میں مارکیٹ کے مواقع کو محفوظ بنانا ‘‘اسٹریٹجک اہمیت” کا حامل ہے اور چین “کینیڈا کے لیے اپنے اقتصادی مفادات کو متنوع بنانے اور چیلنجوں پر مؤثر طریقے سے قابو پانے کے لیے ایک کلیدی بین الاقوامی منڈی ہے۔” چین-کینیڈا تجارتی کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ آفیسر بیجان احمدی نے کہا کہ کینیڈا کی کل جی ڈی پی کا تقریباً دو تہائی حصہ تجارت سے متعلق ہے۔ اس لیے، چین کے ساتھ پیداواری اور عملی تعلقات قائم کرنا، اور فریقین کے درمیان زیادہ اور بہتر تجارتی کاروبار کرنا، کینیڈا کے قومی مفادات کے مطابق ہے اور کینیڈا کی خوشحالی کے لیے فائدہ مند ہے۔
Trending
- محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کیخلاف درخواست مسترد
- ملک میں کونسا پلانٹ کتنے روپے فی یونٹ بجلی پیدا کر رہا ہے؟ سینیٹ میں جمع تفصیلات سامنے آ گئیں
- آوارہ کتوں کیخلاف ایکشن نہ لینےپر مظاہرین نے انتظامیہ کے دفتر میں کتے چھوڑ دیے
- ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی: میزبان بھارت نے نیوٹرل وینیو کی پاکستان کی درخواست مسترد کردی
- مہنگائی پر ہفتہ وار رپورٹ جاری، کونسی چیز سب سے زیادہ مہنگی ہوئی؟
- ایشین گیمز: پاکستان ویمنز ٹیم نے کوارٹر فائنل میں تھائی لینڈ کو شکست دے دی
- اب ہمارا فوکس ایڈ نہیں، ٹریڈ ہے: محمد اورنگزیب
- سعودعی عرب کو جدید ایف 35 جنگی طیارے دینے کی راہ ہموار، امریکا نے منظوری دے دی
- ایشین گیمز میں ایتھلیٹس کی رہائش پر شدید تنقید
- فلپائن فوری طور پر چین کے قانونی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیز اقدامات بند کرے، چائنا کوسٹ گارڈ