چین کے اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک (DeepSeek) کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے عالمی سطح پر تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے، جو کم لاگت پر ChatGPT جیسے مغربی ماڈلز کے برابر کارکردگی پیش کرتا ہے۔ افریقہ کے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے ماہرین ڈیپ سیک کے ذریعے لائی گئی تبدیلیوں کو سراہ رہے ہیں۔
گھانا کی مصنوعی ذہانت اسٹریٹجی ماہر راشدہ موسا کا خیال ہے کہ چینی کمپنی ڈیپ سیک کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ اختراعات کو شیئر کرنا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں مددگار ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی خود بھی گزشتہ کامیابیوں پر استوار ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیپ سیک کے اوپن سورس ماڈل نے افریقہ کے ان اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو موقع فراہم کیا ہے جو زیادہ لاگت برداشت نہیں کر سکتے، تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں حصہ لے سکیں اوراس ضمن میں مساوات کو حقیقت بنائیں۔ راشدہ موسا نے کہا کہ چینی کمپنیاں امریکہ کی ٹیکنالوجی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود جدت طرازی میں کامیاب ہوئی ہیں، جو افریقہ کی مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔
Trending
- چین میں ریلوے کے ذریعے 2 ارب سے زائد مسافروں کے سفر کا تاریخی ریکارڈ
- نام نہاد “بحیرۂ جنوبی چین ثالثی فیصلہ” محض ایک بے وقعت دستاویز ہے، چینی میڈیا
- چین کا نام نہاد” بحیرۂ جنوبی چین” ثالثی فیصلےسے متعلق جاپان کے مؤقف پر شدید احتجاج
- کراچی: ڈاکٹرز کی غفلت، والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی، 2بیٹوں کے بعد تیسری بچی میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق
- بی آر ٹی ییلو لائن کرپشن کیس: سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد
- نیویارک کے سمر فینسی فوڈ شو 2026 میں پاکستانی فوڈ مصنوعات کی دھوم
- سولر جنریشن کی تیزی سے توسیع کی وجہ سے بجلی کا شعبہ بنیادی تبدیلی سے گزر رہا ہے، وزیر توانائی
- ایف آئی اے کی جانب سے 39 ہزار سے زائد مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کا انکشاف
- گوادر پورٹ میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار بین الاقوامی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی
- دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ، سندھ کی روح، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ