چین کے اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک (DeepSeek) کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے عالمی سطح پر تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے، جو کم لاگت پر ChatGPT جیسے مغربی ماڈلز کے برابر کارکردگی پیش کرتا ہے۔ افریقہ کے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے ماہرین ڈیپ سیک کے ذریعے لائی گئی تبدیلیوں کو سراہ رہے ہیں۔
گھانا کی مصنوعی ذہانت اسٹریٹجی ماہر راشدہ موسا کا خیال ہے کہ چینی کمپنی ڈیپ سیک کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ اختراعات کو شیئر کرنا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں مددگار ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی خود بھی گزشتہ کامیابیوں پر استوار ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیپ سیک کے اوپن سورس ماڈل نے افریقہ کے ان اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو موقع فراہم کیا ہے جو زیادہ لاگت برداشت نہیں کر سکتے، تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں حصہ لے سکیں اوراس ضمن میں مساوات کو حقیقت بنائیں۔ راشدہ موسا نے کہا کہ چینی کمپنیاں امریکہ کی ٹیکنالوجی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود جدت طرازی میں کامیاب ہوئی ہیں، جو افریقہ کی مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔
Trending
- کراچی میں عید کے روز نوجوان مرد اور خاتون کی لاشیں برآمد
- حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر عوامی ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، وزیراعظم
- چین اور سربیا کے تعلقات نئی بلندیوں پر
- چینی پارلیمانی وفد کا قازقستان کا دوستانہ دورہ
- ڈچ جنگی جہاز شی شا جزائر کے قریب داخل، چین کا سخت ردعمل
- امن معاہدہ ایرانی قوم کے وقار اور عزتِ نفس کے مطابق جلد طے ہوگا، وزیراعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو
- پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، یوم تکبیر پر وزیر اعطم کا دوٹوک پیغام
- کوٹری ریلوے اسٹیشن کے قریب مال بردار ٹرین پٹری سے اتر گئی، ڈاؤن ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل
- شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ٹیلیفونک گفتگو، کویت کی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
- پاکستان کے دفاع، سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، یوم تکبیر پر مسلح افواج کا عہد