چین کے اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک (DeepSeek) کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے عالمی سطح پر تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے، جو کم لاگت پر ChatGPT جیسے مغربی ماڈلز کے برابر کارکردگی پیش کرتا ہے۔ افریقہ کے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے ماہرین ڈیپ سیک کے ذریعے لائی گئی تبدیلیوں کو سراہ رہے ہیں۔
گھانا کی مصنوعی ذہانت اسٹریٹجی ماہر راشدہ موسا کا خیال ہے کہ چینی کمپنی ڈیپ سیک کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ اختراعات کو شیئر کرنا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں مددگار ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی خود بھی گزشتہ کامیابیوں پر استوار ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیپ سیک کے اوپن سورس ماڈل نے افریقہ کے ان اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو موقع فراہم کیا ہے جو زیادہ لاگت برداشت نہیں کر سکتے، تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں حصہ لے سکیں اوراس ضمن میں مساوات کو حقیقت بنائیں۔ راشدہ موسا نے کہا کہ چینی کمپنیاں امریکہ کی ٹیکنالوجی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود جدت طرازی میں کامیاب ہوئی ہیں، جو افریقہ کی مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔
Trending
- سونے کی قیمتوں میں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- سکیورٹی اداروں نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کیلئے جاسوسی کرنیوالے 3 افراد کو گرفتار کرلیا
- کراچی؛ رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، فتنۃ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار
- امریکا کا ایران کی ناکہ بندی کا اعلان، تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ
- ڈی آئی خان؛ مضر صحت حلوہ کھانے سے 3 نوجوان جاں بحق
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 5 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی
- پاکستان کی سفارتی کامیابی پر سمندر پار پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند
- ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں امتحانی مراکز کی تبدیلی اور بدعنوانی پر نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم
- کراچی؛ باڑے میں آتشزدگی کے دوران لاکھوں روپے مالیت کی 8 بھینسیں جھلس کر ہلاک
- اسحاق ڈار کے سعودی اور مصری ہم منصب سے رابطے ، اسلام آباد مذاکرات پر گفتگو