اسلام آباد:قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک انصاف کے ایم این اے شیر افضل مروت نے پارٹی سے نکالے جانے پر سوال اٹھادیا۔
گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔
شیر افضل مروت کو پارٹی پالیسیوں کی مسلسل خلاف ورزی پر پاکستان تحریک انصاف سے نکالا گیا اور انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑنے کا بھی کہا جائے گا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس میں شیر افضل مروت کی آمد پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجائے جس پر اسپیکر نے مسکراتے ہوئے لقمہ دیا کہ آپ لوگ مروا نہ دینا ان کو۔
پی ٹی آئی ارکان چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کی قیادت میں ایوان پہنچے تو پی ٹی آئی ارکان کے ایوان میں آتے ہی شیر افضل مروت نے مجھے کیوں نکالا کے نعرے لگائے۔
حکومتی ارکان نے بھی ’مروت کو کیوں نکالا جواب دو‘ اور ’ظالمو جواب دو مروت کا حساب دو‘ کے نعرے بلند کیے۔
بیرسٹر گوہر نے اپنے مائیک کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی تصویر رکھ لی۔
پی ٹی آئی ارکان بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے، پی ٹی آئی ارکان پلے کارڈز ڈیسک پر رکھ بیٹھ گئے۔
شیر افضل مروت نے مختصر نکتہ اعتراض پر کہا کہ میرا سوال اپنے ہی دوستوں سے ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟ شیر افضل مروت کے سوال پر حکومتی ارکان مسکرا دیے جبکہ تحریک انصاف اراکین خاموش رہے۔
بیرسٹر گوہر نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کا مطالبہ کیا تو شاہد خٹک نے کورم کی نشاہدہی کردی، گنتی پر کورم نامکمل نکلا جس پر قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
Trending
- جاپان،100سال سے زائد عمر افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ
- ملک میں ایک تولہ سونے کا بھاؤ 100 روپے کم ہوگیا
- شاداب خان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دوسری ہیٹ ٹرک
- جاپان میں بیسویں ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب کا انعقاد
- امن مشنز کو مزید حقیقت پسندانہ، موثر اور پائیدار بنانے کے لیے تیارہیں ،چین
- 41 سال کی عمر میں حمل: ماہرہ خان کو ’بوڑھی خاتون‘ کہنے پر ٹی وی چینل شدید تنقید کی زد میں
- انگولا اور چین کے درمیان تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں، اسپیکر انگولا
- نام نہاد رضاکارانہ برآمدی پابندیاں ڈبلیو ٹی او کے قوانین اور مارکیٹ کی معیشت کے اصولوں اور منصفانہ مسابقت کی خلاف ورزی ہیں، چینی وزارت تجارت
- چین امریکہ اقتصادی و تجارتی مذاکرات کا اگلا دور 19 سے 23 ستمبر تک امریکہ میں ہو گا
- پاکستان استحکام سے سرمایہ کاری اور وسیع تر سرمایہ تشکیل کی جانب گامزن ہے، وزیر خزانہ