میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں “تجارتی جنگ اور امن”کی تھیم پر مبنی مباحثے میں ، متعدد سیاسی اور کاروباری افراد نے حالیہ دنوں امریکہ کی جانب سے بار بار ٹیرف دھمکیوں پر شدید تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا یکطرفہ اور تحفظ پسندانہ طرز عمل تجارتی جنگ کو جنم دے سکتا ہے جو بالآخر عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
کینیڈین وزیر خارجہ میلانیا جولی نے بحث کے دوران کہا کہ کینیڈا اور امریکہ کی معیشتیں ایک دوسرے پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں ۔ امریکی ٹیرف میں اضافے نے “سب کو حیران کر دیا” اور اس سے کینیڈا کو ” وجود کا خطرہ” لاحق ہے، جس سے لاکھوں کینیڈین ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
جرمنی کے وائس چانسلر اور وزیر اقتصادیات رابرٹ ہیبیک نے نشاندہی کی کہ امریکی ٹیرف میں اضافہ فطری طور پر یکطرفہ عمل ہے اور یورپ کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی تنازعات کو تجارتی رکاوٹوں کے بجائے بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے ۔
یورپی کمیشن کے کمشنر برائے تجارت اور اقتصادی سلامتی مروس شیووویچ نے کہا کہ امریکہ کے پاس یورپی یونین کی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ خود امریکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
Trending
- نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کو غلط قرار دے دیا
- اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کی حکومت گرانے کیلئے اتحاد کر لیا
- 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی
- نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا
- چین، یوم شہداء پر عوامی ہیروز کی یادگار پر پھولوں کی چادر پیش کرنے کی تقریب 30 ستمبر کو ہوگی
- چینی صدر کا پرامن چین انیشی ایٹو کو مزید بلند سطح تک آگے بڑھانے پر زور
- چین۔امریکہ تعلقات کا استحکام دنیا کے لیے یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے ، یو ایس۔چائنا بزنس کونسل کے صدر
- مصنوعی ذہانت پر چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی عملی اہمیت
- چین کے سات محکموں کی جانب سے نئی بیٹری صنعت کی ترقی کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ جاری
- چین دونوں ممالک کے سربراہان کے اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کو تیار ہے ، چینی وزارتِ خارجہ