میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں "تجارتی جنگ اور امن”کی تھیم پر مبنی مباحثے میں ، متعدد سیاسی اور کاروباری افراد نے حالیہ دنوں امریکہ کی جانب سے بار بار ٹیرف دھمکیوں پر شدید تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا یکطرفہ اور تحفظ پسندانہ طرز عمل تجارتی جنگ کو جنم دے سکتا ہے جو بالآخر عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
کینیڈین وزیر خارجہ میلانیا جولی نے بحث کے دوران کہا کہ کینیڈا اور امریکہ کی معیشتیں ایک دوسرے پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں ۔ امریکی ٹیرف میں اضافے نے "سب کو حیران کر دیا” اور اس سے کینیڈا کو ” وجود کا خطرہ” لاحق ہے، جس سے لاکھوں کینیڈین ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
جرمنی کے وائس چانسلر اور وزیر اقتصادیات رابرٹ ہیبیک نے نشاندہی کی کہ امریکی ٹیرف میں اضافہ فطری طور پر یکطرفہ عمل ہے اور یورپ کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی تنازعات کو تجارتی رکاوٹوں کے بجائے بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے ۔
یورپی کمیشن کے کمشنر برائے تجارت اور اقتصادی سلامتی مروس شیووویچ نے کہا کہ امریکہ کے پاس یورپی یونین کی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ خود امریکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
Trending
- پی ایس ایل 11: گلین میکسویل نے اہم سنگ میل عبور کر کے تاریخ رقم کر دی
- آسٹریلوی اداکارہ کے کیٹی پیری پر ہراسانی کے سنگین الزامات، پولیس کی تحقیقات
- پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالر سے زائد ہوگئے
- پی ایس ایل: حیدرآباد کنگزمین نے راولپنڈیز کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی
- سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلیے نادرا کا اہم پیغام
- انڈر 18 نیشنل ہاکی چیمپئن شپ؛ کون کونسی ٹیموں نے سیمی فائنل کیلیے کوالیفائی کر لیا؟
- پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالرز موصول
- ملتان میں جہانگیر ترین کا تعلیمی اقدام، اے پی ایس سکول میں جدید کمپیوٹر لیب کا افتتاح
- پی ایس ایل 11؛ اسلام آباد یونائٹیڈ کا کراچی کنگز کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- روبوٹ ڈرون سے فوڈ ڈیلیوری اخراجات میں کمی